
اس بات کو تسلیم کر لینے کے علاوہ کہ اس ڈھانچے کی اصل شکل مندر تھی، اس میں استعمال شدہ سامان پہلے سے موجود مندر کا تھا، اس میں موجود جین مورتی سرسوتی کی تھی، اور ہندو دھرم اور جین دھرم الگ الگ نہیں ہیں، جس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا، وہ یہ ہے کہ یہ عمارت گزشتہ 700 برسوں سے ایک مسجد رہی ہے۔
اس مقام پر ملنے والا ایک کتبہ (جس کا ذکر اے ایس آئی سروے میں بھی ہے) بتاتا ہے کہ مالوا کے گورنر دل آور خان غوری نے 1392-93 میں دھار کی مسجدوں کی مرمت کروائی تھی۔ اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ کمال مولا مسجد 13ویں صدی کے آغاز میں تعمیر کی گئی تھی، غالباً سلطان علاء الدین خلجی کے گورنر عین الملک ملتانی کے ذریعے۔
اس مسجد میں ایک ’محراب‘ موجود ہے، جس پر قرآن کی آیات درج ہیں۔ اس میں ایک ’منبر‘ (خطبہ دینے کا مقام) اور ایک ’زنانہ‘ (خواتین کے لیے مخصوص جگہ) بھی موجود ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف اس مقام اور پورے خطے کی جین تاریخ کو مٹاتا ہے، بلکہ اس عمارت کی مسجد کے طور پر طویل تاریخ کو بھی نظر انداز کرتا ہے — وہ تاریخ جو چشتی صوفی بزرگ کمال مالوی کے مزار سے جڑی ہوئی ہے۔
(روچیکا شرما دہلی میں مقیم مورخ اور پروفیسر ہیں)






