
جیتو پٹواری نے اپنے مکتوب میں کہا کہ ریاست میں ایک بار پھر بی جے پی حکومت عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے جا رہی ہے۔ انہوں نے یکم اپریل سے نافذ ہونے والی مجوزہ بجلی قیمتوں میں 4.80 فیصد اضافے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی خدمت کے بجائے محض محصولات جمع کرنے کے نظریہ پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے گزشتہ دس برسوں کے دوران بجلی نرخوں میں ہونے والے اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بجلی کی قیمتوں میں 22 سے 24 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے صفر سے 50 یونٹ تک کی شرح جو پہلے 3.65 تھی، اب بڑھ کر 4.45 ہو گئی ہے، جو کہ بیس فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر ماہ فیول سرچارج کے نام پر تین فیصد سے زیادہ اضافی بوجھ بھی صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔






