مدھیہ پردیش میں آئی اے ایس افسر کا ریزرویشن پر قابل اعتراض بیان، حکومت نے کیا معطل، نوٹس جاری

AhmadJunaidJ&K News urduNovember 27, 2025368 Views


ان بیانات کے سامنے آتے ہی ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی تنظیموں کے ساتھ ساتھ برہمن برادری نے بھی سخت اعتراض ظاہر کیا۔ مختلف سماجی گروہوں نے اس بیان کو آئین کی توہین، حساس سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے والا اور امتیازی ذہنیت کی علامت قرار دیا۔ بدھ کو سیکڑوں کارکن بھوپال کے ولبھ بھون ریاستی سکریٹریٹ کے باہر جمع ہوئے، جہاں احتجاج، نعرے بازی اور پُتلے نذر آتش کیے گئے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ معاملہ صرف محکمہ جاتی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ آئی اے ایس افسر کے خلاف ایس سی/ایس ٹی (انسدادِ مظالم) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ ان کے ہاتھوں میں پوسٹر تھے جن پر تحریر تھا، ’افسر آئین نہیں بدل سکتے‘ اور ’بابا صاحب کی وراثت کی حفاظت کرو‘۔

تنازع بڑھنے پر حکومت نے فوری طور پر شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے اور آل انڈیا سروسز (کنڈکٹ) رولز 1968 کے علاوہ آل انڈیا سروسز (ڈسپلن اینڈ اپیل) رولز 1969 کی خلاف ورزی بھی ہے۔ نوٹس میں واضح ہدایت دی گئی کہ 7 دن میں وضاحت نہ دینے کی صورت میں یکطرفہ محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔

وزارت کے ایک سینئر افسر نے کہا، ’’کوئی بھی سول سرونٹ، رتبہ کچھ بھی ہو، ریزرویشن جیسی آئینی پالیسیوں پر ایسی عوامی تنقید نہیں کر سکتا جس سے سماجی تانہ بانہ متاثر ہو۔‘‘

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...