بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے محمد یونس کی عبوری حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یونس نے اپنی آئینی ذمہ داری ٹھیک سے نہیں نبھائی۔ صدر کو نہ صرف اہم بات چیت سے دور رکھا بلکہ انہیں ہٹانے کی سازش کر کے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ دراصل بنگلہ دیشی صدر محمد شہاب الدین نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دور میں صدر کے آئینی اختیارات کو کمزور کیا گیا اور انہیں غیر آئینی طریقے ہٹانے کی سازش کی گئی۔ شہاب الدین نے کہا کہ عبوری حکومت نے انہیں الگ تھلگ کر دیا، کوئی معلومات شیئر نہیں کیں اور یہاں تک کہ ان کے پریس ڈپارٹمنٹ کو بھی ہٹا دیا گیا۔
ڈھاکہ میں اپنی سرکاری رہائش گاہ ’بنگ بھون‘ میں بنگالی روزنامے ’کالیر کنٹھو‘ کو دیے ایک انٹرویو میں صدر نے کہا کہ ’’ان ڈیڑھ سالوں میں میں کسی بھی بات چیت میں شامل نہیں رہا، پھر بھی میرے خلاف کئی طرح کی سازشیں کی گئیں۔ ملک کے امن و امان کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے اور آئینی خلا پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کوششیں کامیاب رہیں تو انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنے فیصلے پر ڈٹا رہا، اس لیے کوئی سازش کامیاب نہیں ہوئی۔ خاص طور پر غیر آئینی طریقوں سے صدر کو ہٹانے کی سازشیں ناکام ہو گئیں۔ اس لیے بنگ بھون میں ڈیڑھ سال کا تجربہ اچھا نہیں کہا جا سکتا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے اوپر سے گزرے اس طوفان کو جھیلنے کی طاقت کسی اور میں تھی یا نہیں۔‘‘
بنگلہ دیشی صدر سے سوال کیا گیا کہ کیا سابق چیف ایڈوائز نے ریاست کے فیصلوں پر صدر سے مشورہ کیا، جس میں 133 آرڈیننس جاری کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالانکہ کچھ حالات کی وجہ سے ضروری ہو سکتے ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں جاری کرنے کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ محمد شہاب الدین نے الزام عائد کیا کہ سابق چیف ایڈوائزر نے کئی غیر ملکی دورے کیے لیکن لوٹنے پر انہوں نے نہ تو صدر سے ملاقات کی اور نہ ہی کوئی تحریری معلومات فراہم کیں۔ صدر کے مطابق یہ ان کی آئینی ذمہ داری تھی۔
کالیر کنٹھو سے بات کرتے ہوئے محمد شہاب الدین نے کہا کہ ’’چیف ایڈوائزر نے کسی آئینی ضابطے پر عمل نہیں کیا۔ آئین میں درج ہے کہ جب بھی وہ غیر ملکی دورے پر جائیں تو وہاں سے لوٹنے کے بعد انہیں صدر سے ملنا چاہیے اور نتائج سے آگاہ کرنا چاہیے۔ انہیں مجھے تحریری طور پر بتانا چاہیے کہ کیا بات چیت ہوئی ہے۔ وہ 14 سے 15 بار غیر ملکی دورے پر گئے ہوں گے، لیکن انہوں نے مجھے کبھی نہیں بتایا۔ وہ کبھی میرے پاس نہیں آئے۔‘‘
بنگلہ دیشی صدر شہاب الدین کے مطابق عبوری حکومت کے دور میں وہ مکمل طور پر اندھیرے میں رہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے 2 مجوزہ غیر ملکی دورے کوسوو اور قطر روک دیے گئے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ انتخاب سے قبل عبوری حکومت کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کیے گئے آخری معاہدے کے بارے میں جانتے تھے، تو صدر نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور ایسی پیش رفت کے بارے میں انہیں سرکاری طور پر مطلع کیا جانا چاہیے تھا خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ بے شک گزشتہ حکومتوں کے سربراہان صدر کو مطلع کرتے رہے ہیں اور یہ ایک آئینی ذمہ داری ہے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































