
15 اگست 1947 کو ہندوستان نے برطانوی راج سے آزادی ضرور حاصل کر لی تھی، مگر اس وقت ملک کے پاس اپنا مستقل آئینی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ انتظامی نظام بڑی حد تک انہی قوانین پر چل رہا تھا جو نوآبادیاتی دور میں نافذ تھے۔ آزادی نے سیاسی غلامی کا خاتمہ کیا، لیکن ایک منصفانہ، خودمختار اور جمہوری نظام کے قیام کے لیے ایک ایسے دستاویز کی ضرورت تھی جو ہر شہری کو برابری، آزادی اور انصاف کی ضمانت دے سکے۔ یہی ضرورت آئین کی تشکیل کا بنیادی محرک بنی۔
اسی پس منظر میں 29 اگست 1947 کو آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک ڈرافٹنگ کمیٹی قائم کی گئی، جس کی ذمہ داری ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو سونپی گئی۔ ان کے ساتھ ممتاز قانونی ماہرین اور سیاسی رہنما شامل تھے، جنہوں نے ہندوستان کے سماجی، مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع کو سامنے رکھتے ہوئے آئین کی بنیاد رکھی۔ 4 نومبر 1947 کو آئین کا ابتدائی مسودہ دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد تقریباً دو سال تک ہر شق پر تفصیلی غور و خوض ہوا، طویل بحثیں ہوئیں اور مختلف ترامیم کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ آئین صرف اکثریت کی آواز نہ بنے بلکہ ہر طبقے کے حقوق کا تحفظ کرے۔





