محبت، فلسفہ اور انسانی شعور کی لازوال آواز

AhmadJunaidJ&K News urduDecember 27, 2025362 Views


غالبؔ کی شاعری صرف عشقِ مجازی تک محدود نہیں۔ وہ دنیا داری سے آگے بڑھ کر انسان اور انسان کے درمیان بکھرتے رشتوں، خاموش دکھوں اور اندرونی کشمکش کو بھی موضوع بناتے ہیں۔ وہ خاموش بیٹھے انسان کو تھپکی دیتے ہیں اور اس کے دل کا حال پوچھتے ہیں:

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار

یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

یہ اشعار محض عاشقانہ شکوہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات کی گہری تفہیم کا ثبوت ہیں۔ یہاں سوال عشق کا بھی ہے اور وجود کا بھی۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...