محبت، درد اور اردو شاعری کا لازوال شاعر…حسنین نقوی

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 21, 2025432 Views


اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا؟

غم میر کا مستقل ساتھی رہا۔ قریبی عزیزوں کی موت، دہلی کی بربادی، دوستوں کی بے وفائی اور سرپرستوں کی بے اعتنائی، یہ سب ان کی روح پر نقش ہو گئے۔ اسی لیے میر کو درد و غم کا شاعر کہا گیا، جس نے رنج و الم کو لازوال بنا دیا۔

ان کا ایک شعر ہے:

دِیدنی ہے شکستگی دل کی،

کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے۔

لیکن میر کا غم محض نوحہ نہیں بلکہ فن تھا، ایک ایسا جادو جہاں ذاتی کرب اجتماعی تجربہ بن جاتا ہے۔

راہ دورِ عشق میں روتا ہے کیا

میر کی شاعری کے مرکز میں عشق ہے۔ یہ صرف محبوب تک محدود نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ اور روحانی قوت کی صورت میں جلوہ گر ہے۔ ان کے اشعار میں عشق کا نشہ بھی ہے اور اس کا زخم بھی۔

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو،

دیر سے انتظار ہے اپنا۔

غالب کے برعکس، جنہوں نے محبت کو فکری اور تجریدی مفہوم میں پیش کیا، میر نے اسے جسمانی اور حقیقی بنا دیا، زمین سے جڑی ہوئی ایک حقیقت، جو درد اور سرشاری سے دھڑکتی ہے۔ میر کا محبوب کوئی دور کا استعارہ نہیں بلکہ ایک محسوس ہونے والا وجود ہے، جس کی غیر موجودگی آگ کی طرح جلتی ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...