’مجھے ڈالر کے نہیں، الیکشن کمیشن کے مقابلے دیکھو‘

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 31, 2026360 Views


‘صحافی رویش کمار بتا رہے ہیں کہ ملک کے نام چٹھی میں ہندوستانی روپیہ کہتا ہے کہ ’کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک ڈالر کے سامنے میری قدر 95 تک پہنچ جائے گی۔ مجھے کمزور کہا جائے گا۔ میری کمزوری کے نام پر ایک مضبوط حکومت آئی، جو ہر دن مضبوط ہوتی چلی گئی اور میں کمزور ہوتا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کسی کام کا نہیں ہوں۔ اس کمزوری میں بھی میں ووٹر کے کھاتے میں پہنچ کر نتیجہ نکال دیتا ہوں۔ مجھے بانٹ کر ووٹ مل جاتا ہے۔‘

’وزیر خزانہ میری ڈاکٹر ہیں۔ ریزرو بینک کے گورنر میرے کارڈیو ڈاکٹر ہیں۔ جیسے ہی میرا کولیسٹرول بڑھتا ہے، وہ مارکیٹ میں ڈالر کوچھوڑ دیتے ہیں۔‘(فوٹو: کینوا اے آئی)

پیارے بھارت،

میں روپیہ ہوں۔ میں ٹھیک ہوں۔ تھوڑی حرارت سی ہو جاتی ہے۔ بخار توچڑھتا جا رہا ہے لیکن کمزوری نہیں ہے۔ ایک ڈالر جب بھی سامنے آتا ہے، میری کپکپی بڑھ جاتی ہے۔ اور کوئی خاص بات نہیں ہے۔ میں نے ڈولو لے لیا ہے۔ ڈولو لینے کے بعد ڈالر کے سامنے تھوڑا تن جاتا ہوں، ڈولو کا اثر کم ہوتا ہے،تھوڑالچک جاتا ہوں۔

کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک ڈالر کے سامنے میں میری قدر 95 تک پہنچ جائے گی۔ مجھے کمزور کہا جائے گا۔ میری کمزوری کے نام پر ایک مضبوط حکومت آئی، جو ہر دن مضبوط ہوتی چلی گئی اور میں کمزور ہوتا گیا۔ اُس وقت میں ایک ڈالر کے سامنے 62 روپے تھا، آج 95 ہو گیا ہوں۔ میری کمزوری کی آپ فکر نہ کریں۔ میں روپیہ ہوں، اس میں میرا قصور نہیں ہے۔ قصور آپ لوگوں کا ہے۔ آپ ڈالر کما نہیں سکے، آپ ڈالر بچا نہیں سکے، آپ ڈالر پھنسا نہیں سکے۔

جتنا ڈالر آتا ہے، اتنا باہر چلا جاتا ہے۔ ڈالر کو جانے سے نہیں روک پانے والی حکومت کی وجہ سے میں کمزور ہو جاتا ہوں۔ غیر ملکی سرمایہ کار اپنا پیسہ لے کر گئے ہیں، آپ کا نہیں لے کر گئے۔ جب بھی اپنا پیسہ لے کر جاتے ہیں، مجھے کمزور کر جاتے ہیں۔ میری کمزوری کی آپ فکر نہ کریں، میری کمزوری کے نام پر مضبوط ہونے والی حکومت کی فکر کریں ۔

یہ حکومت اتنی مضبوط ہو گئی کہ 2016 میں مجھے راتوں-رات بند کر دیا گیا۔ نوٹ بندی ہو گئی۔ مجھے ڈالر سے ڈر نہیں لگتا، مجھے 8 بجے رات سے ڈر لگتا ہے۔ کب آٹھ بجتے ہی پی ایم مجھے بند کر دیں۔ نوٹ بندی کے وقت خواب دکھایا کہ بستروں میں، دیواروں میں جو کالا دھن  گڑا ہے،باہر آ جائے گا۔ آیا تو نہیں، میں جب نوٹ بندی کے بعدباہر آیا تو کھویا -کھویا سا رہنے لگا۔ سارے چندے ایک ہی طرف جا رہے تھے۔ میں سہما سہما یہ سب دیکھتا رہا اور ڈالر کے سامنے کبھی شرماتے ہوئے 92 اور کبھی 95 ہوتا  رہا۔

وزیر خزانہ میری ڈاکٹر ہیں، ریزرو بینک کے گورنر میرے کارڈیو ڈاکٹر ہیں۔ جیسے ہی میرا کولیسٹرول بڑھتا ہے، وہ مارکیٹ میں ڈالر کوچھوڑ دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کسی کام کا نہیں ہوں۔ اس کمزوری میں بھی میں ووٹر کے کھاتے میں پہنچ کر نتیجہ نکال دیتا ہوں۔

اس الیکشن میں بھی میں 30,000 کروڑ تقسیم ہونے والا ہوں۔ بس اتنا ہی بدلا ہے۔مجھے بانٹ کر ووٹ مل جاتا ہے۔ آپ مجھے ہمیشہ ڈالر کے مقابلے مت دیکھو۔ دیکھنا ہے تو مجھے الیکشن کمیشن کے مقابلے دیکھو، لابھاتھی یوجنا کے مقابلے دیکھو، ووٹر کے مقابلے دیکھو۔ میں نہیں، مجھے پا کر ووٹ دینے والے لوگ کمزور ہوئے ہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔ اپنی فکر کرو، میری نہیں۔

تمہارا،
روپیہ

(سینئر صحافی رویش کمار کے ایکس ہینڈل کے شکریہ کے ساتھ)



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...