
حراست میں لیے جانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ قومی راجدھانی میں قانون و نظم پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق جو لوگ مسائل پر آواز اٹھا رہے ہیں، انہیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور زمینی سطح پر کوئی مؤثر کام نہیں ہو رہا۔
انہوں نے کہا کہ کمل دھَیانی کے اہل خانہ کی مدد کے لیے کوئی سرکاری نمائندہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان کی شکایت درج کی گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ متوفی کے والدین، بھائی اور دیگر رشتہ دار پوری رات چھ تھانوں کے چکر لگاتے رہے، لیکن ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔






