
حادثے کا شکار ہونے والے ایئر انڈیا طیارے کا ملبہ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: ایئر انڈیا کے اس افسوسناک فضائی حادثے کے دس ماہ بعد، جس میں 260 لوگوں کی جان چلی گئی تھی، متاثرہ خاندانوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) اور بلیک باکس ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
غورطلب ہے کہ 12 جون 2025 کو احمد آباد سے لندن جا رہی ایئر انڈیا کی پرواز ٹیک آف کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس کے بعدطیارے میں سوار 242 میں سے 241 افراد کی موت ہو گئی تھی۔
یہ طیارہ ایک میڈیکل کالج کے ہاسٹل پر گرا تھا، جس کے باعث سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، وہاں اور آس پاس کے مزید 19 لوگوں کے جان جانے کی بات درج ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہلاک ہونے والے 241 لوگوں میں 169 ہندوستانی، 52 برطانوی، 7 پرتگالی شہری، ایک کینیڈین اور عملے کے 12 ارکان شامل تھے۔ اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے واحد شخص برطانوی شہری وشواس کمار رمیش تھے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، پورے گجرات سے تقریباً 30 متاثرہ خاندان سنیچرکواحمد آباد میں جمع ہوئے اور وزیر اعظم کو خط لکھ کر سی وی آراور بلیک باکس (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر) کا ڈیٹا جاری کرنے کی گزارش کی، تاکہ حادثے کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔
انہوں نے کہا،’ہم جاننا چاہتے ہیں کہ حادثے کی وجہ کیا تھی اور کیا اس میں کوئی تکنیکی خرابی تھی۔’
اس خط کی کاپیاں ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو(اے اے آئی بی)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) اور گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپندر پٹیل کو بھی بھیجی گئی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر بلیک باکس ڈیٹا کو عوامی طور پر جاری نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم اسے نجی طور پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے۔
حادثے میں اپنے 24 سالہ بیٹے کو کھونے والے نیلیش پروہت کہتے ہیں، ‘میرا گھر اب خالی خالی لگتا ہے۔ کوئی بھی معاوضہ اس خالی پن کو بھر نہیں کر سکتا۔ ہمیں پیسہ نہیں چاہیے، ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا۔’
کئی افراد کے لیے یہ درد ادارہ جاتی مدد کی مبینہ کمی کی وجہ سے مزید بڑھ گیا ہے۔
وساد کی رہنے والی کنجل پٹیل، جنہوں نے اس حادثے میں اپنی ماں کو کھو دیا، نے ایئر انڈیا کی جانب سے حال ہی میں بنائی گئی اس ویب سائٹ کے استعمال میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا، جس کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو ان کا سامان واپس دلانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا، ‘وہاں 25,000 سے زیادہ اشیاء کی فہرست ہے، لیکن ان کی تصویریں صاف نہیں ہیں۔ وہاں کچھ بھی تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔’
دیگر افراد نے بھی رابطہ کے مؤثر ذرائع کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا۔ کھیڑا کے رومن وورا، جنہوں نے اس حادثے میں اپنی ماں، بھائی اور بیٹی کو کھو دیا، نے ان خاندانوں کی مشکلات بیان کیں جو ڈیجیٹل ذرائع سے واقف نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا،’صرف ایک ای میل آئی ڈی ہے اور جواب آنے میں 15 دن لگ جاتے ہیں۔ گاؤں میں رہنے والے کئی لوگوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ای میل کااستعمال کیسے کیا جاتا ہے۔’
انہوں نے پورٹل پر نجی سامان کو عوامی طور پر دکھانے پر بھی ناراضگی ظاہر کی اور اسے غیر حساس قرار دیا۔
ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے آے آئی بی) نے اس فضائی حادثے پر اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ گزشتہ سال جولائی میں جمع کرا دی تھی، جبکہ حتمی رپورٹ جون میں، اس سانحے کی پہلی برسی کے آس پاس، پیش کیے جانے کا امکان ہے۔






