
ڈاکٹر کمار نے اراولی پہاڑ کے لیے مرکزی حکومت کی نئی تعریف کو مکمل طور پر غیر سائنسی اور منمانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فاریسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) کے مطابق 20 میٹر سے زیادہ اونچائی والی اراولی پہاڑیوں میں سے صرف 8.7 فیصد ہی 100 میٹر سے زیادہ اونچی ہیں، اور ایف ایس آئی کے ذریعے نشان زد تمام پہاڑیوں میں سے محض 1 فیصد ہی 100 میٹر سے زیادہ اونچائی کی ہیں۔ صرف اونچائی کی بنیاد پر اراولی کی شناخت کرنا ماحولیاتی حقائق اور سائنسی سوچ کی توہین ہے۔ انہوں نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ اراولی کے پورے پہاڑی سلسلہ اور اس سے جڑے ماحولیاتی نظام کو بغیر کسی امتیاز کے محفوظ کیا جانا چاہیے۔ ترقی کے نام پر ماحولیات کی قربانی دینا کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنی غلط پالیسیوں کو درست کرے، سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن داخل کرے اور یہ یقینی بنائے کہ اراولی جیسی قیمتی قدرتی وراثت آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔






