
ریاستی حکومت کی دلیل ہے کہ گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے اور پہلے ملزموں کی تعداد کچھ اور تھی بعد میں کچھ اور کر دی گئی اور جائے واردات سے کوئی دھار دار ہتھیار نہیں ملا۔ گواہوں کا کہنا ہے کہ ان کو سیکورٹی فراہم نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے وہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنا بیان آزادی کے ساتھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ خطرات کی وجہ سے وہ کئی بار مقررہ تاریخوں پر عدالت میں نہیں پہنچ سکے۔ جبکہ ملزموں کی تعداد کے بارے میں اخلاق کے بیٹے دانش کا کہنا ہے کہ پہلے ان لوگوں کو، جن کے ناموں کا علم ہوا تھا ملزم بنایا گیا مگر جب چشم دید افراد سے کچھ اور لوگوں کے نام معلوم ہوئے تو ان کے نام بھی جوڑ دیے گئے۔ ملزموں کی تعداد میں اضافہ عام بات ہے۔ پولیس خود متعدد معاملات میں ملزموں کے ناموں میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ لیکن ان لولی لنگڑی دلیلوں کی بنیاد پر کیس ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ دس سال قبل 28 ستمبر 2015 کی شب میں بساہڑہ گاوں میں لاوڈ اسپیکر سے اعلان ہوا کہ محمد اخلاق نے گو کشی کی ہے اور اس کا گوشت اس نے اپنے فریج میں رکھا ہوا ہے۔ اس اعلان پر ایک مشتعل بھیڑ نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا اور اخلاق کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس حملے میں اخلاق کا بیٹا دانش بری طرح زخمی ہوا جس کا کافی دنوں تک اسپتال میں علاج چلتا رہا۔ اخلاق کی بیوہ نے تھانے میں دس افراد کے خلاف نامزد اور چار پانچ نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کرائی۔ اخلاق کے گھر سے برآمد گوشت کو متھرا کے لیب میں جانچ کے لیے بھیجا گیا۔ جانچ رپورٹ میں پایا گیا کہ وہ وہ گائے کا گوشت نہیں تھا۔ اس کے بعد اخلاق کے اہل خانہ دوسری جگہ منتقل ہو گئے۔ ان کا الزام ہے کہ وہ خوف و ہراس کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کو سیکورٹی حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں حاضری دینے سے قاصر رہتے ہیں۔





