ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہفتہ کو شہر کے معروف مذہبی رہنما مولانا کلب جواد نے 3 روز کے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے امام بارگاہوں، گھروں اور مذہبی مقامات پر سیاہ پرچم لگانے کی اپیل کی تھی۔ اس دوران شہر میں مختلف تعزیتی پروگرام بھی منعقد کیے گئے تھے۔ جبکہ آج مولانا کلب جواد کی اپیل کا اثر دیکھنے کو ملا۔
ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد جہاں ملک کے مختلف شہروں میں شیعہ برادری کے لوگ ماتم منا رہے ہیں اور تعزیتی اجتماعات منعقد کر رہے ہیں، وہیں آج پرانے لکھنؤ میں سوگ کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ یہاں آج چھوٹا اور بڑا امام باڑہ، بھول بھولیا مکمل طور سے بند ہیں۔ اس کے علاوہ پرانے لکھنؤ کے بازار بھی مکمل طور سے بند ہیں۔ مذہبی جذبات اور سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی 3 مارچ کے بعد سیاحوں کے لیے امام باڑے کھول دیے جائیں گے۔
لکھنؤ میں شیعہ برادری کے لوگوں نے بڑے امام باڑے سے چھوٹے امام باڑے تک دکانیں بند کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ شیعہ برادری نے 3 روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ بڑا امام باڑہ اور چھوٹا امام باڑہ سیاحوں کے لیے بھی بند رہے گا۔ انتظامیہ نے یہ فیصلہ احتیاطاً لیا ہے۔ اس کے علاوہ عمارتوں پر خامنہ ای کے بڑے بڑے پوسٹرز لگائے گئے ہیں۔ شیعہ برادری کے لوگ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
مولانا کلب جواد کی اپیل کے مطابق لکھنؤ کے تاریخی چھوٹے امام بارگاہ میں شام کو خصوصی تعزیتی اجلاس منعقد ہوگا۔ اس تعزیتی اجلاس میں مذہبی علماء، سماجی کارکنان اور بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔ اس دوران قرآن خوانی، دعا اور خراجِ عقیدت کی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں آیت اللہ خامنہ ای کی خدمات کو یاد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کینڈل مارچ بھی نکالا جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































