
اس واقعہ میں نیہا کے خلاف 27 اپریل 2025 کو لکھنؤ کے حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور اس کی تحقیقات جاری ہے۔ ان کے دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے سرکاری وکیل ڈاکٹر وی کے سنگھ نے دلیل دی کہ عرضی گزار نے نہ صرف وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور بی جے پی کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کیے بلکہ اس نے ایسے وقت میں ملک مخالف بیانات دے کر آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کی آزادی کے آئینی حق کی بھی خلاف ورزی کی ہے جب پاکستان کے ساتھ تناؤ اپنے عروج پر تھا۔ ڈاکٹر وی کے سنگھ نے یہ بھی دلیل دی کہ بہار انتخابات کے حوالے سے نیہا کے بیانات آزادی اظہار کی حد سے تجاوز کرتے ہیں۔ سرکاری وکیل نے بنچ کو یہ بھی بتایا کہ نیہا تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہی ہے اور نوٹس کے باوجود پوچھ گچھ کے لیے دستیاب نہیں ہے۔






