
قابل ذکر ہے کہ 2019 میں جب مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 اور دفعہ 35-A کو ہٹایا تو جموں و کشمیر اور لداخ مرکز کے زیر انتظام علاقے بن گئے۔ تب سے لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تب سے سونم وانگچک لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، لداخ ہندوستان کے لیے ایک انتہائی حساس خطہ ہے، جس کی 1,597 کلومیٹر لمبی ایل اے سی چین کی سرحد سے ملتی ہے۔ اور ایسی صورتحال میں لداخ میں اس طرح کا کوئی بھی احتجاج اور تشدد ہندوستان کے لیے اچھا نہیں ہے۔ (انپٹ بشکریہ نیو ز پورٹل، ’آج تک‘)






