
عدالت کے مطابق ابتدائی شواہد کی بنیاد پر یہ واضح ہوتا ہے کہ لالو یادو اور ان کے خاندان کی جانب سے وسیع پیمانے پر سازش رچی گئی۔ عدالت نے کہا کہ چارج شیٹ میں شامل مواد سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ لالو یادو کے قریبی معاونین نے نوکریوں کے بدلے زمین کے حصول میں شریکِ سازش کے طور پر کردار ادا کیا۔
عدالت نے لالو یادو اور دیگر کی جانب سے دائر بریت کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان دلائل میں کوئی وزن نہیں ہے۔ عدالتی ریمارکس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کے پختہ اشارے ملتے ہیں کہ ملزمان نے سرکاری عہدے سے الگ ہو کر ایک مجرمانہ منصوبے کے تحت کام کیا اور آئینی اختیارات اور صوابدید کا غلط استعمال کیا گیا۔





