
اسٹیٹس رپورٹ میں یہ اہم معلومات بھی چھپائی گئی تھیں۔ جب وکیل دفاع نے اسے عدالت میں پیش کیا تو استغاثہ فریق بھی اس سے انکار نہیں لرپایا۔ عدالت نے کہا کہ ملزم تقریباً 4 سال 8 ماہ سے جیل میں ہے۔ کیس کے حالات اور تفتیش میں سامنے آنے والی کوتاہیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ملزم کو 10ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے ایک ضمانتی پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ ڈی سی پی کو ہدایت دی کہ معاملے میں لاپرواہی برتنے والے پولیس افسران کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔






