فورس اور پریشر کی کہانی، روزمرہ زندگی سے جڑی آسان وضاحت

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 7, 2025395 Views


ہم اپنی گفتگو میں فورس (طاقت) اور پریشر (دباؤ) کے الفاظ کو مختلف معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ آج کل مجھ پر کام کا پریشر ہے یا یہ کہ دشمن نے جنگ میں اپنی پوری فورس جھونک دی۔ ان جملوں میں فورس اور پریشر ذہنی یا جسمانی دباؤ کے طور پر سمجھے جاتے ہیں لیکن سائنس میں ان کا مطلب بالکل مختلف ہے۔ سائنس کے مطابق فورس اور پریشر کا تعلق حرکت، رفتار اور توازن سے ہے۔

جب ہم کسی چیز کو دھکا دیتے ہیں یا کھینچتے ہیں تو ہم اس پر فورس لگاتے ہیں۔ اس فورس کے نتیجے میں وہ چیز اپنی جگہ بدلتی ہے، اس کی رفتار اور سمت میں تبدیلی آتی ہے یا وہ مڑ جاتی ہے اور کبھی ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ یعنی فورس ہمیشہ کسی نہ کسی تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہے۔ عظیم سائنسدان نیوٹن نے فورس کے استعمال کو غور سے دیکھا اور اسے حرکت کے قوانین میں بیان کیا۔ ان قوانین سے یہ واضح ہوا کہ کسی بھی جسم پر فورس لگے گی تو اس میں حرکت پیدا ہوگی، اور اگر وہ پہلے سے حرکت میں ہے تو اس کی رفتار یا سمت میں تبدیلی آئے گی۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...