فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر عائد زبانی پابندی کے حوالے سے ارکان پارلیامنٹ نے مرکزی وزیر کو خط لکھا

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 28, 2026357 Views


سی بی ایف سی کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘پر مبینہ زبانی روک لگائے جانے کے معاملے پر اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ نے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو کو خط لکھ کر اس پابندی پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ فلم ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے، جس میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران ایک کار میں پھنسی پانچ سالہ فلسطینی بچی کی موت ہو گئی تھی۔

دی وائس آف رجب کا ایک منظر۔

نئی دہلی: آٹھ ارکان پارلیامنٹ نے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو کو خط لکھ کر سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ (سی بی ایف سی) کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘پر مبینہ زبانی پابندی کی مخالفت کی ہے۔

فلم کے ڈسٹری بیوٹر اور ممبئی واقع جئے وراٹرا انٹرٹینمنٹ کے سربراہ منوج نندوانا نے کہا تھا کہ فلم کو سی بی ایف سی اس لیے روک رہا ہے کیونکہ یہ ’انتہائی حساس‘ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بورڈ کے ایک رکن نے غیر رسمی طور پر تشویش ظاہر کی تھی کہ فلم کی ریلیز سے ہندوستان اوراسرائیل تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

واضح ہو کہ یہ فلم ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے، جس میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران ایک کار میں پھنسی پانچ سالہ فلسطینی بچی کی موت ہو گئی تھی۔ فلم پر پابندی کو لے کر ہدایت کار سمیت کئی افراد نے ہندوستان اوراسرائیل تعلقات کی ’حساسیت‘پر سوال اٹھائے ہیں۔

ارکان پارلیامنٹ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور سی بی ایف سی کو ہدایت دے کہ فلم کی جانچ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق آئینی اصولوں کے مطابق کی جائے۔

اس خط پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے جان برٹاس، کانگریس کے جئے رام رمیش، سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو اور جاوید علی خان، راشٹریہ جنتا دل کے منوج کمار جھا، ڈی ایم کے کی سلمیٰ، انڈین یونین مسلم لیگ کے حارث بیرن اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے سرفراز احمد کے دستخط ہیں۔

خط میں ارکان پارلیامنٹ نے لکھا ہے؛

ہم اس بات پر شدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے آپ کو لکھ رہے ہیں کہ سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ (سی بی ایف سی) نے بین الاقوامی سطح پر سراہی گئی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘کو زبانی طور پر سرٹیفیکیشن دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث ہندوستان میں اس کی عوامی نمائش پر مؤثر طور پر پابندی لگ گئی ہے۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں فوراًذاتی طور پرمداخلت کریں، کیونکہ یہ مسئلہ فنکارانہ آزادی، ادارہ جاتی ساکھ اور جمہوری اقدار اور ثقافتی کشادگی کے تئیں ہندوستان کے عزم پر اہم اثر ڈالتا ہے۔

تیونس میں تیار کی گئی اور کاؤثر بن ہنیہ کی ہدایت کاری میں بنی یہ فلم 2024 کے غزہ تنازعہ کے دوران ایک فلسطینی بچے کے حقیقی قتل کے واقعہ پر مبنی ہے۔ اس فلم کو بین الاقوامی سطح پر وسیع پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اسے آسکر کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ عصری انسانی مسائل سے اس کے تعلق کے باعث اسے عالمی سطح پر خاصی توجہ ملی ہے۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق ہندوستان میں اس کے ڈسٹری بیوٹر کو زبانی طور پر بتایا گیا ہے کہ اسے سرٹیفیکیشن نہیں دیا جا سکتا۔ یہ طریقہ کار اس بات پر سنگین سوال اٹھاتا ہے کہ کیا فلم سرٹیفیکیشن کے قانونی عمل کے علاوہ کسی اور عوامل نے فیصلہ سازی کو متاثر کیا ہے۔ کسی فلم کی نمائش اظہار رائے کی آزادی کا حصہ ہے، جسے آئینی ڈھانچے میں تحفظ حاصل ہے، اور اسے مبینہ سفارتی تعلقات کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔

سنیما تاریخی طور پر ایک اہم میڈیم رہا ہے جس کے ذریعے معاشرہ پیچیدہ تاریخی، سیاسی اور انسانی مسائل پر مکالمہ کرتا ہے۔ یہ ہمارے آئینی جمہوریت کا بنیادی اصول ہے کہ فنکارانہ اظہار کو غیر رسمی یا غیر شفاف طریقوں سے محدود نہیں کیا جا سکتا۔ سنیماٹوگراف ایکٹ، 1952 ایک شفاف اور معقول سرٹیفیکیشن عمل فراہم کرتا ہے، جس میں فلموں کی عوامی نمائش سے متعلق فیصلے صرف قانونی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں۔ اس عمل سے کسی بھی قسم کا انحراف، جیسے زبانی ہدایات یا غیر رسمی مشورے، جو بالآخر سرٹیفیکیشن سے انکار کا سبب بنتے ہیں، ادارہ جاتی ساکھ کو کمزور کرتے ہیں اور تخلیقی آزادی کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں پر عوامی اعتماد کو کم کرتے ہیں۔

یہ بات بڑے پیمانے پر تسلیم کی جاتی ہے کہ مذکورہ فلم عصری اور عالمی اہمیت کے مسائل کو مخاطب کرتی ہے۔ کسی فلم میں پیش کیے گئے نقطہ نظر سے محض اختلاف اس کی عوامی نمائش پر پابندی لگانے کی جائز بنیاد نہیں ہو سکتا۔ہندوستان کی جمہوری طاقت اس میں ہے کہ وہ مختلف خیالات کو عوامی سطح پر پرکھنے اور ان پر بحث کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ سرٹیفیکیشن کے قانونی معیار سے ہٹ کر خیالات، جیسے مبینہ جیو پولیٹکل حساسیت کی بنیاد پر فیصلے کرنا ایک غیرمطلوبہ مثال قائم کرے گا، جو اظہار رائے کی آزادی کے آئینی حق کے مطابق نہیں ہے۔

ہندوستان کی تہذیبی روایت طویل عرصے سے خیالات کے تنوع اور فنکارانہ تشریحات کو قبول کرتی آئی ہے۔ پیچیدہ یا غیر آرام دہ موضوعات پر مکالمہ کبھی بھی ہماری جمہوریت کو کمزور نہیں کرتا بلکہ اس سے عوامی مباحثہ مضبوط اور جمہوریت مستحکم ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ معاملہ صرف ایک فلم تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے ہندوستان کی آئینی وابستگی اور عالمی ثقافتی منظرنامے میں اس کے ضابطہ کار اداروں کی ساکھ سے جڑا ہوا ہے۔

اس تناظر میں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سی بی ایف سی کو فوراً ہدایات جاری کرے تاکہ فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘کا جائزہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق آئینی اصولوں کے مطابق لیا جائے اور اسے جلد از جلد سرٹیفیکیشن دیا جائے۔ ہندوستان کی جمہوری طاقت اس پختہ یقین میں مضمر ہے کہ خیالات، کہانیوں اور فنکارانہ اظہار کو کھلے ذہن کے ساتھ پرکھا جانا چاہیے، نہ کہ پہلے سے ہی پابندی عائد کرکے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...