فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فریب…اشوک سوین

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 28, 2025379 Views


اسرائیل کی بستیاں پھیلتی رہیں، مگر یورپ نے تجارتی و ادارہ جاتی تعلقات مزید گہرائے۔ 1995 سے فری ٹریڈ معاہدہ ہے۔ 2010 میں زرعی تجارت بڑھی، 2013 میں دواؤں کے لیے باہمی منظوری کا نظام آیا اور 2018 میں اوپن اسکائی ایوی ایشن ڈیل ہوئی۔ بستیوں کی پیداوار کو استثنیٰ سے نکالنے کا اعلان محض نمائشی ہے۔ اس نے نہ نوآبادیات روکی اور نہ ہی سست کی۔

یورپ نے اسرائیل کو مالی اور ادارہ جاتی فائدے بھی دیے۔ وہ اب بھی یورپی یونین کی ’جنوبی پڑوس حکمتِ عملی‘ میں ایک خصوصی شریک ہے، حالانکہ وہی اس تباہ کن جنگ کا آغاز کرنے والا ہے۔

عسکری اور کارپوریٹ مفادات کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اکیلا جرمنی ہی اسرائیل کے اسلحہ کا ایک بڑا سپلائر ہے اور غزہ کے کھنڈر بن جانے کے باوجود اس نے اسرائیل کو اپنی برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔ البتہ اسپین نے اس ماہ اسرائیل کے ساتھ تمام اسلحہ سودے منسوخ کر دیے ہیں لیکن یورپی یونین کی سطح پر ایسی کوئی جامع پابندی عائد نہیں کی گئی۔ جولائی 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف نے واضح کر دیا تھا کہ ریاستوں کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی حالات کو کسی بھی شکل میں سہارا یا تعاون فراہم نہیں کرنا چاہیے۔ اسلحہ اور سکیورٹی ٹیکنالوجی کی تجارت جاری رکھ کر یورپی ممالک جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں شراکت دار بن رہے ہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...