
کیرالہ کے ملانکارا چرچ کے حوالے سے سینٹ تھامس عیسائی برادری کے دو دھڑوں کے درمیان ملکیت اور اختیار کی کشمکش اب اس نہج تک پہنچ چکی ہے جہاں عدالتی مداخلت اور بینک کھاتوں کے منجمد ہونے جیسے اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ یہ تنازعہ کوئی نیا نہیں بلکہ تقریباً ایک صدی پرانا ہے، تاہم اب ایک نئی تشویش نے جنم لیا ہے، جو غیر ملکی چندہ (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 سے متعلق ہے اور یہ خدشات دونوں فریقوں میں یکساں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں سے ملانکارا چرچ سے وابستہ مختلف گروہوں کے متعدد بینک کھاتے جاری قانونی تنازعات کی وجہ سے منجمد ہیں۔ چرچ، مدارس، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں سمیت کئی فلاحی ادارے مالی غیر یقینی صورتحال کے باوجود اپنی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ان تمام مشکلات کے باوجود ایک بنیادی یقین موجود تھا کہ کمیونٹی کی کاوشوں اور وقتاً فوقتاً ملنے والی غیر ملکی امداد کے ذریعے جو اثاثے دہائیوں میں تعمیر کیے گئے ہیں، وہ ان کی ملکیت ہی رہیں گے اور ان پر صرف عدالتی فیصلوں کا اثر ہوگا۔






