ٹی-20 ورلڈ کپ کے ہیرو شیوم دوبے نے فائنل میں ہندوستان کی تاریخی فتح کے بعد کچھ ایسا کیا جس کا اب خوب تذکرہ ہو رہا ہے۔ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں اتوار کی رات دوبے نے اپنی بلے بازی کا کچھ ایسا جلوہ بکھیرا کہ پورا اسٹیڈیم ’دوبے دوبے‘ کے شور سے گونج اٹھا تھا۔ آخری اوور میں انہوں نے 24 رن بنا کر ہندوستان کو ڈھائی سو کے پار پہنچایا تھا۔ آخرکار ہندوستان تیسری بار ٹی-20 ورلڈ کپ کا فاتح بنا۔ اس کے بعد اسٹیڈیم ہی نہیں بلکہ پورا ملک جشن میں ڈوب گیا، دیر رات تک جشن منایا گیا۔ اسی درمیان سورج نکلنے سے پہلے ہی ورلڈ کپ کا یہ ہیرو احمد آباد ریلوے اسٹیشن پر تھا اور سیاجی ایکسپریس کی تھرڈ اے سی میں چھپتے چھپاتے سفر کر کے ممبئی پہنچا۔
انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق شیوم دوبے نے یہ فیصلہ تب کیا جب پیر کو احمد آباد سے ممبئی جانے والی تمام فلائٹس مکمل طور پر بک تھیں۔ دوبے کو گھر پہنچنے کی جلدی تھی، کیونکہ وہ اپنے 4 سالہ بیٹے ایان اور 2 سالہ بیٹی مہوش کے پاس جلد از جلد پہنچنا چاہتے تھے جو ممبئی میں ان کے گھر پر تھے۔ آخر کار انہوں نے اپنی اہلیہ انجم کے ساتھ ٹرین سے جانے کا فیصلہ کیا۔ دوبے اچھی طرح جانتے تھے کہ ٹرین سے جانا ان کے لیے کتنا جوکھم بھرا ہو سکتا ہے۔ ورلڈ کپ اسٹار کو دیکھنے، ملنے اور ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لیے لوگوں کا ہجوم ٹوٹ پڑتا، لیکن دوبے نے اس کا راستہ نکال لیا۔ دوبے نے بتایا کہ ’’کوئی فلائٹ دستیاب نہیں تھی، اس لیے میں نے صبح سویرے احمد آباد سے ممبئی کے لیے ٹرین پکڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہم سڑک کے راستے سے بھی جا سکتے تھے لیکن ٹرین جلدی پہنچاتی۔‘‘
شیوم دوبے نے مزید بتایا کہ ان کے ٹرین سے جانے کے منصوبے کے بارے میں جاننے کے بعد گھر والے اور دوست بہت زیادہ فکر مند ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں، میری اہلیہ اور ایک دوست نے ٹرین سے جانے کا فیصلہ کیا۔ تھرڈ اے سی کے ٹکٹ دستیاب تھے اس لیے ہم نے انہیں بک کرنے کا فیصلہ کیا۔ خاندان اور دوستوں میں جس کسی سے بھی ہم نے بات کی وہ سب تشویش میں تھے کہ کیا ہوگا اگر کوئی مجھے اسٹیشن پر یا ٹرین میں پہچان لے؟‘‘ مسئلہ سنگین تھا لیکن دوبے نے راستہ نکالا۔ طے ہوا کہ چہرہ ڈھانپ کر جائیں گے۔ ماسک لگایا، ٹوپی پہنی، پوری آستین کی ٹی شرٹ پہنی اور علی الصبح کار سے اسٹیشن کے لیے روانہ ہو گئے۔ سوچا تھا کہ ٹرین صبح سویرے 5 بج کر 10 منٹ کی ہے تو اس وقت اسٹیشن پر زیادہ بھیڑ نہیں ہوگی، لیکن ایسا نہیں تھا۔ وہاں کرکٹ شائقین کا ہجوم موجود تھا، جن میں سے کچھ ترنگے کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔
شیوم دوبے نے کہا کہ ’’میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ میں اپنی کار میں ہی انتظار کرتا ہوں اور ٹرین کے روانہ ہونے سے محض 5 منٹ پہلے نکلوں گا۔ اس کے بعد میں تیزی سے ٹرین میں سوار ہو جاؤں گا۔‘‘ ہوا بھی ایسا ہی، دوبے کو تھرڈ اے سی میں اوپر والی برتھ ملی ہوئی تھی۔ سفر کے دوران بھی ڈر تھا کہ کہیں کوئی ساتھی مسافر نہ پہچان لے۔ ایک بار تو ان کی شناخت ظاہر ہوتے ہوتے بچی۔ دراصل جب ٹکٹ چیکر (ٹی سی) آیا تو اس نے بولا شیوم دوبے؟ وہ کون ہے، کرکٹر؟ اس وقت شیوم دوبے کی اہلیہ انجم نے فوری طور پر دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ ’’نہیں، نہیں، وہ یہاں کہاں سے آئے گا۔‘‘ اس کے بعد ٹی سی چلا گیا۔
رات میں شیوم دوبے واش روم جانے کے لیے اپنی برتھ سے نیچے اترے، لیکن آنے جانے کے دوران کوئی بھی ساتھی مسافر انہیں پہچان نہیں پایا۔ ٹرین میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوا، لیکن دوبے کو ڈر تھا کہ جب وہ دن کے وقت بوریولی اسٹیشن پر اتریں گے تو شاید ہی لوگوں کی نظروں سے بچ پائیں گے۔ آخر کار انہوں نے پولیس کو فون کر کے مدد مانگی۔ پولیس والوں کو پہلے لگا کہ وہ ایئرپورٹ پر آ رہے ہیں، لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ دوبے تو ٹرین سے آ رہے ہیں تو وہ حیران رہ گئے۔ اس طرح ہجوم سے بچتے بچاتے دوبے کسی طرح اپنے گھر پہنچ گئے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































