فاروق عبداللہ پر حملے سے حکومت میں کھلبلی! وی آئی پی سیکورٹی کا جائزہ لینے کا حکم

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 14, 2026358 Views


افسران نے بتایا کہ یہ جائزہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں جس کے لئے بہت سے سیاسی وی آئی پی ان علاقوں کا سفر کریں گے۔

سیکورٹی اہلکار، تصویر یو این آئیسیکورٹی اہلکار، تصویر یو این آئی

i

user

نیشنل کانفرنس (این سی) کے سربراہ اور جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبد اللہ پر ہوئے حملے نے وی آئی پی سیکورٹی انتظامات پرسوال کھڑے کردیے ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس دوران وزارت داخلہ نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے ان تمام مرکزی سیکورٹی یافتہ شخصیات کے سیکورٹی پروٹوکول کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جن کی سیکورٹی کی ذمہ داری سی آر پی ایف، سی آئی ایس ایف، آئی ٹی بی پی وغیرہ کے پاس ہے۔ یہ جائزہ اگلے ہفتے لیا جائے گا۔ وہیں نیشنل سیکیورٹی گارڈ (این ایس جی) بھی اپنے سیکورٹی حصار والی شخصیات کے لیے اس طرح کا جائزہ لے گا۔ این ایس جی کی جانب سے فاروق عبداللہ کو زیڈ پلس سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں حکام نے بتایا کہ وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال، ہوم سکریٹری گووند موہن، انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا اور وزارت داخلہ کے وی آئی پی سیکورٹی یونٹ کے سینئر افسران کی میٹنگ میں آئندہ ہفتے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس طرح انتہائی مخصوص شخصیات (وی آئی پی) کے لیے سیکورٹی مرکزی نیم فوجی دستوں جیسے کہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آرپی ایف) ، سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) ، نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) اور انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) فراہم کرتی ہے۔ افسران نے بتایا کہ یہ جائزہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ جلد ہی 5 ریاستوں آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں جس کے لئے بہت سے سیاسی وی آئی پی ان علاقوں کا سفر کریں گے۔

مرکزی فہرست کے تحت مختلف سیکورٹی زمروں میں تقریباً 400 وی آئی پی ہیں جن میں سے 220 کے پاس سی آرپی ایف، 156 کے پاس سی آئی ایس ایف، 9 کے پاس این ایس جی اور متعدد کے پاس آئی ٹی بی پی کا سیکورٹی گھیرا ہے۔ یاد رہے کہ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ بدھ کی رات جموں میں ایک شادی کی تقریب سے واپس آرہے تھے کہ ایک پستول بردار نے ان پر پیچھے سے گولی چلادی۔ حالانکہ اس واردات میں وہ بال بال بچ گئے۔ اس معاملے میں گرفتار کیا گیا ملزم اس شخص کا قریبی رشتہ دار ہے جس کے یہاں شادی ہو رہی تھی۔ اس کے پاس لائسنسی پستول تھی۔ اس واقعہ کے بعد ریاست سے مرکز تک وی آئی پی سیکورٹی انتظام پر سوال اٹھنے لگے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...