
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ڈیجیٹل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کا ڈیٹا تو محفوظ رہا لیکن کاک پٹ وائس ریکارڈر کا ڈیٹا اوور رائٹ ہو چکا تھا جس کے نتیجے میں پائلٹوں کی بات چیت کے بارے میں اہم معلومات ضائع ہو گئیں۔ اے اے آئی بی نے ایوی ایشن سیفٹی کے نقطہ نظر سے اس واقعہ کو انتہائی سنگین قرار دیا اور کہا کہ یہ حادثہ کسی بڑب تہرےب کا باعث بن سکتا تھا۔ معاملے میں تفصیلی جانچ جاری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جاسکے۔






