
اسرائیل نے نہ صرف کھلے عام حملہ کیا بلکہ اپنی جارحانہ طاقت پر فخر بھی کیا۔ نیتن یاہو امریکی وزیر خارجہ کی موجودگی میں اعلان کرتے نظر آئے کہ حماس کے رہنما کسی بھی جگہ محفوظ نہیں ہیں۔ یہ کوئی چھپی ہوئی جنگ نہیں تھی، بلکہ ایک عوامی تماشہ تھا۔ اسرائیل نے اس علاقے پر حملہ کیا، جہاں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ واقع ہے، جس سے امریکی یقین دہانیوں کی کمزوری بھی ظاہر ہوئی۔ اس نے عرب رہنماؤں کو واضح طور پر بتا دیا کہ ان کی خودمختاری کا کوئی مطلب نہیں۔ اسرائیل کسی پر بھی، کہیں بھی حملہ کرے گا، اور عرب حکومتیں ایسا کچھ نہیں کریں گی جو اس کے اقدامات پر اثر ڈال سکے۔
نیتن یاہو دراصل ایک نئے اصول کا اعلان کر رہے تھے، جس کے تحت اسرائیل خود کے دفاع کے نام پر کسی بھی ملک پر کسی بھی وقت بمباری کر سکتا ہے۔
اسی دوران، واشنگٹن کے کئی قریبی اتحادی، جیسے فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور بیلجیئم، اقوام متحدہ کی عام اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جبکہ یورپی یونین نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات کم کرنے اور بعض سینئر اسرائیلی حکام پر پابندی عائد کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔






