غزہ میں اسرائیلی قبضہ مضبوط کرنے کی حکمت عملی…اشوک سوین

AhmadJunaidJ&K News urduNovember 30, 2025364 Views


اس سب کے باوجود ’امن منصوبہ‘ ان حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی واپسی کا ذکر تو ہے مگر گزشتہ دو برس کی وسیع تباہی اور انسانی نقصان کا کوئی حساب، کوئی جوابدہی موجود نہیں۔ مغربی کنارے پر ہونے والے جبر، آبادکاروں کی غیر قانونی توسیع اور نسلی امتیاز کے نظام کا بھی کوئی ذکر نہیں۔

اقوام متحدہ کے اپنے انسانی حقوق کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی امن کاری اصل میں قبضے کو مضبوط کرتی ہے، ختم نہیں۔ ان کے مطابق جب تک اسرائیلی قبضے اور نسلی امتیاز کے نظام کو ختم نہیں کیا جاتا، مستقل امن ممکن نہیں۔

سوال یہ ہے کہ حقیقی امن کے لیے کیا ضروری ہے؟ سب سے پہلے، جنگ بندی کا مطلب ہر قسم کے فوجی حملوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ناکہ بندی مکمل طور پر ختم ہونی چاہیے۔ ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘ کا مقصد اسرائیلی تسلط کو مزید محفوظ کرنا نہیں بلکہ فلسطینیوں کے حقوق کی ضمانت بننا چاہیے۔ امدادی راستے کھولنے، مریضوں اور زخمیوں کے فوری انخلا، خوراک، ادویات اور ایندھن کی آزادانہ فراہمی کی ضمانت ضروری ہے۔ سب سے اہم شرط یہ ہے کہ قبضے کے پورے نظام کو توڑا جائے، کیونکہ جب تک جبر کی بنیاد موجود رہے گی، امن کا کوئی بھی منصوبہ محض دھوکہ ہی رہے گا۔

(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اوپسلا یونیورسٹی میں امن و تنازعات کی تحقیق کے پروفیسر ہیں)

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...