
اس وقت عالمی سطح پر اگر کوئی واقعہ سب سے زیادہ موضوع بحث ہے تو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’غزہ بورڈ آف پیس‘ ہے۔ اس کے بارے میں مختلف آراء ظاہر کی جا رہی ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ بورڈ ان کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے کا اگلا مرحلہ ہے لیکن انھوں نے غزہ کی تعمیر نو کا جو منصوبہ داووس اجلاس میں پیش کیا اس کے پیش نظر کچھ لوگ اسے ایک سامراجی حربہ اور کچھ لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کا ’رئیل اسٹیٹ منصوبہ‘ قرار دے رہے ہیں۔ انھوں نے اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے تعمیر نو کا جو خاکہ پیش کیا ہے اس سے اس کی بہت حد تک وضاحت ہو جاتی ہے کہ اس امن بورڈ کی آڑ میں دراصل ٹرمپ کے عزائم کیا ہیں۔ یوں تو انھوں نے اس پلان کی روشنی میں غزہ کے لیے بہت خوشنما مستقبل کا خواب دکھایا ہے لیکن بہت سے مبصرین اسے غزہ پر ٹرمپ کی جانب سے اپنا کنٹرول قائم کرنے کی پلاننگ تصور کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق ان کے امن بورڈ کو اب تک کم از کم پچاس ملکوں نے رضامندی دے دی ہے اور تیس سے زائد ملکوں نے اس پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔ دستخط کرنے والوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اردن، مصر، مراکش، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، قزاقستان، ازبکستان، آذربائیجان اور فطری طور پر امریکہ اور اسرائیل شامل ہیں۔ جن ملکوں نے اس بورڈ میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے ان میں فرانس، جرمنی، ناروے، سویڈن، ڈنمارک، سلووینیا اور اٹلی قابل ذکر ہیں۔ ہندوستان کو بھی اس بورڈ میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا تھا لیکن اس نے اس سلسلے میں ابھی تک اپنا کوئی موقف واضح نہیں کیا ہے۔ یعنی اس نے نہ تو ابھی تک اس پر دستخط کیے ہیں اور نہ ہی انکار کیا ہے۔ بعض تجزیہ کار اسے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بے سمتی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان کو صاف لفظوں میں بورڈ میں شمولیت سے انکار کر دینا چاہیے۔






