عہد فاروقیؓ اور تراویح کی باقاعدہ شروعات… محمد عبید

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 4, 2026358 Views


تراویح کی باجماعت ادائیگی کی اصل بنیاد وہ صحیح حدیث ہے جو بخاری و مسلم میں مروی ہے، جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی تین راتیں صحابہ کرام کو باجماعت نماز پڑھائی۔

فائل تصویر آئی اے این ایس فائل تصویر آئی اے این ایس

i

user

اسلام کے بارہ مہینوں میں رمضان کا مہینہ سب سے بابرکت اور رحمت والا ہے۔ ایک مسلمان جو سال کے گیارہ مہینے دنیوی معاملات میں مصروفیت کی وجہ سے دینی فرائض کی ادائیگی میں غفلت یا کوتاہی کا شکار ہو جاتا ہے، اس کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ ماہِ رمضان میں خود کو عبادت و ریاضت کے لیے وقف کر دے۔ وہ صبح سحری سے لے کر رات سونے تک اللہ کی خوشنودی و رضا کے لیے عبادات میں مشغول رہتا ہے اور ایک نماز سے دوسری نماز کا اس طرح انتظار کرتا ہے جسے حدیث نبوی میں ’معلق القلب‘ (مسجد سے جڑا ہوا دل) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فرض نماز کے علاوہ نوافل کا بھی کثرت سے اہتمام کیا جاتا ہے، انہی میں سے ایک ہے تراویح کی نماز۔ ماہِ رمضان میں تقریباً تمام مساجد میں باجماعت تراویح کی نماز کا اہتمام ہوتا ہے، کئی مقامات پر لوگ گھروں میں یا کسی خالی جگہ پر بھی اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ عام دنوں میں لوگ فرض نماز کی ادائیگی میں سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن رمضان کے ایام میں طویل تراویح کی نماز بھی خوشی خوشی ادا کر لیتے ہیں۔ آج کی اس تحریر میں ہم بات کریں گے تراویح کی نماز دراصل ہے کیا؟ اس کی شروعات کب سے ہوئی؟ اور سب سے اہم کہ اس کی باجماعت ابتدا کب سے ہوئی؟

لفظ تراویح ’ترویحہ‘ کی جمع ہے جس کے معنی ’آرام پہنچانے‘ کے ہیں۔ تراویح کی باجماعت ادائیگی کی اصل بنیاد وہ صحیح حدیث ہے جو بخاری و مسلم میں مروی ہے، جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی تین راتیں صحابہ کرام کو باجماعت نماز پڑھائی۔ لیکن چوتھی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس اندیشے سے تشریف نہ لائے کہ کہیں امت پر یہ نماز فرض نہ کر دی جائے اور ان کے لیے مشکل پیدا ہو۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ (رمضان کی) نصف شب میں مسجد تشریف لے گئے اور وہاں تراویح کی نماز پڑھی۔ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے۔ صبح ہوئی تو انہوں نے اس کا تذکرہ کیا۔ چنانچہ دوسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ دوسری صبح کو اس کا مزید تذکرہ ہوا اور تیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ آپ نے (اس رات بھی) نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی۔ چوتھی رات کو یہ عالم تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے آنے والوں کے لیے جگہ بھی باقی نہیں رہی تھی۔ (لیکن اس رات آپ تشریف نہ لائے) بلکہ صبح کی نماز کے لیے باہر تشریف لائے۔ جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر شہادت کے بعد فرمایا۔ امابعد! تمہارے یہاں جمع ہونے کا مجھے علم تھا، لیکن مجھے خوف اس کا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہو جاؤ، چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہی کیفیت قائم رہی۔‘‘ (صحیح بخاری:2012) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف نہ لانے کے بعد بھی صحابہ کرامؓ نے اس نماز کو ترک نہیں کیا، بلکہ وہ مسجد میں اپنی اپنی جگہ انفرادی طور پر یا مختصر گروہوں میں یہ نماز ادا کرتے رہے۔ یہ سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے بقیہ ایام، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پورے دور خلافت اور حضرت عمر فاروقؓ کے ابتدائی دور تک اسی طرح قائم رہا۔

اب ہم بات کرتے ہیں عہد فاروقی کی، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کیا (تعدادِ رکعات 20 یا 8 کے ذکر کے بغیر، کیونکہ وہ ایک دیگر موضوع ہے جس کی یہاں ضرورت نہیں ہے)۔ عبدالرحمن بن عبدالقاری بیان کرتے ہیں کہ ’’میں رمضان کی ایک رات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد (نبوی) کی طرف نکلا۔ دیکھا تو لوگ متفرق ٹولیوں میں بٹے ہوئے تھے۔ کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، تو کہیں ایک شخص نماز پڑھا رہا تھا اور چند افراد کا گروہ اس کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اگر میں ان تمام لوگوں کو ایک ہی قاری (امام) کے پیچھے جمع کر دوں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ پھر آپ نے پختہ ارادہ کر لیا اور سب کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع فرما دیا۔ پھر جب میں ایک اور رات ان (حضرت عمرؓ) کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ سب لوگ اپنے ایک ہی امام کے پیچھے (باجماعت) نماز پڑھ رہے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ کتنا عمددہ نیا انتظام ہے!، اور (رات کا وہ حصہ) جس میں تم سو جاتے ہو (یعنی آخری حصہ) اس سے بہتر ہے جس میں تم اب قیام کر رہے ہو۔ آپ کی مراد رات کا آخری حصہ (تہجد کا وقت) تھا، جبکہ لوگ رات کے ابتدائی حصے میں قیام (تراویح) کیا کرتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری: 2010)

واضح رہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے نہ صرف لوگوں کو ایک امام پر جمع کیا، بلکہ یہ بھی واضح فرمایا کہ رات کے آخری حصے کی عبادت (تہجد) اس قیام سے بھی افضل ہے جو لوگ رات کے شروع میں کر رہے ہیں۔ اس سے مراد یہ تھی کہ لوگ عشاء کے بعد ہی تراویح پڑھ کر فارغ ہو جاتے تھے، اور یہی طریقہ آج بھی رائج ہے۔ تاہم تراویح کا وقت عشاء کے بعد سے لے کر صبح صادق (فجر) تک رہتا ہے، اس لیے اسے رات کے کسی بھی حصے میں پڑھنا جائز ہے، البتہ آخری حصہ دعا اور قبولیت کے لحاظ سے زیادہ افضل مانا جاتا ہے۔ الغرض حضرت عمرؓ کے اس عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تراویح کی باقاعدہ شروعات امت میں نظم پیدا کرنے کے لیے تھی تاکہ شعائرِ اسلام کی رونق برقرار رہے۔ انہوں نے بکھری ہوئی جماعتوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کر کے مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا کیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ حضرت عمرؓ کا یہ عمل نیا نہیں تھا بلکہ اس کی اصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت تھی، حضرت عمرؓ نے اسے دوبارہ جاری کر کے سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...