عورت کی آزادی ہی دلائے گی ہر دن طاقت کا احساس…میناکشی نٹراجن

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 21, 2025395 Views


جب راجستھان کے دیورالا میں روپ کنور کو ستی کے لیے جلایا گیا، تو 1988 میں عورتوں کی تحریک نے قانون میں دوبارہ ترمیم کرائی۔ 1985 میں شاہ بانو نے نفقہ کے حق میں مقدمہ دائر کیا اور جیتا مگر حکومت نے 1986 میں قانون پاس کر کے روایت پسندوں کو خوش کیا۔ بعد میں اس کے دور رس اثرات بھی سامنے آئے۔

1992 میں راجستھان کی بھنوری دیوی نے کم عمری کی شادی روکنے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی۔ انصاف نہ ملنے پر عورتوں کی تنظیموں نے لڑائی لڑی اور 1997 میں سپریم کورٹ نے ’وشاکھا گائیڈ لائنز‘ جاری کیں تاکہ کام کی جگہ پر ہراسانی روکی جا سکے۔ اگرچہ بھنوری دیوی کو آج بھی انصاف نہیں ملا۔ نربھیا واقعہ کے بعد بھی سخت تر قانون آیا۔

عورتوں کی تحریک نے ہی سبری مالا اور حاجی علی درگاہ میں عورتوں کے داخلے کا بگل بجایا۔ منی پور میں فوجیوں کے ہاتھوں تھانجم منورما کے ریپ پر عورتوں نے ڈٹ کر مخالفت کی۔ افسپا کے خلاف ای روم شرمیلا کی جدوجہد آج بھی یاد کی جاتی ہے۔ آسام، ناگالینڈ اور میزورام کی عورت تنظیموں نے نشہ بندی، جائیداد کے حق اور طلاق کے سوال پر جدوجہد کی۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...