
ملزمان کی جانب سے سینئر وکلا کپل سبل، ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی اور سی یو سنگھ دلائل پیش کر رہے ہیں۔ ان سب پر غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) قانون یعنی یو اے پی اے کے تحت سنگین دفعات لگائی گئی ہیں۔ دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ سبھی فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے پیچھے رچی گئی ایک بڑی اور منظم سازش کا حصہ تھے۔
خیال رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے 2 ستمبر کو عمر خالد، شرجیل امام، میران حیدر اور گلفشاں فاطمہ سمیت اطہر خان، شفا الرحمٰن، محمد سلیم خان، شاداب احمد اور خالد سیفی کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک الگ بنچ نے ایک اور ملزم تسلیم احمد کی درخواست ضمانت بھی خارج کر دی تھی۔




