
ان کے دورِ حکومت میں 1975 کی ایمرجنسی ایک ایسا باب ہے جو آج بھی بحث کا موضوع ہے۔ تنقیدیں اپنی جگہ ہیں مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسی دور میں ملک نے ادارہ جاتی نظم و ضبط، انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی میں تیزی دیکھی۔ خود اندرا گاندھی نے بعد میں اس فیصلے پر عوامی ردعمل کو قبول کرتے ہوئے انتخابات میں شکست تسلیم کی اور جمہوریت کی بحالی کا راستہ ہموار کیا۔
31 اکتوبر 1984 کو اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں ان کا قتل کر دیا گیا۔ مگر ان کی شہادت نے انہیں ایک علامت بنا دیا—ایسی علامت جو جرأت، استقامت اور خوداعتمادی کی ترجمان ہے۔
اندرا گاندھی صرف ایک وزیر اعظم نہیں تھیں بلکہ ایک عہد تھیں—ایک ایسا عہد جس نے ہندوستان کو عالمی سطح پر خودمختار اور طاقتور ملک کے طور پر پیش کیا۔ ان کی برسی کے موقع پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ قیادت صرف اقتدار کا نام نہیں، بلکہ ذمہ داری، عزم اور عوام کے تئیں سچے جذبے کا نام ہے۔ اندرا گاندھی کی زندگی اسی سچائی کی آئینہ دار ہے۔





