
زبیر فاروق کے شاعری کی اصل خصوصیت سہل ممتنع، فکر انگیزی اور تغزل ہے۔
جگ کے آگے رونا کیا
صحراؤں میں بونا کیا
وقت کی سنگت میں اپنا
ہونا اور نہ ہونا کیا
دل کو دل سے نسبت ہے
پیتل، چاندی، سونا کیا
ہم تو یوں بھی تیرے ہیں
ہم پر جادو ٹونا کیا
۔۔۔۔
انکے اشعار محبت کے لازوال جذبے سے سرشار ہیں لیکن انکے اظہار میں پھکڑ پن نہیں ہے بلکہ حد درجہ شائستگی اور وقارپایا جاتا ہے۔
سورج ڈھلے گا جب تو وہ آئیں گے بام پر
اپنی طلوع صبح تو ہوتی ہے شام سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پھر آج مجھ سے خفا ہو گیا
ہوا کی طرح بے وفا ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ہی بس خیال میں پاگل تھی زندگی
آوارگی میں گھومتا بادل تھی زندگی
زبیر فاروق عورت کے جذبہ ایثار و قربانی کی بہت قدر کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ مرد کی انا پرستی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
بیٹی بھی ہے بہن بھی ہے اور بیوی بھی ماں بھی
چار الفاظ تلک محدود کہانی عورت کی
۔۔۔
آج تلک وہ اپنی ‘انا’ اور ‘میں’ نہ مار سکا
مرد کرے برداشت کہاں من مانی عورت کی
۔۔۔۔۔۔





