
گلفشاں فاطمہ کے معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران انہوں نے مختلف احتجاجی مقامات پر آزادانہ کمان، وسائل پر کنٹرول یا اسٹریٹجک نگرانی نہیں کی۔ عدالت کے مطابق یہ الزام کہ انہوں نے مقامی خواتین کو منظم کیا اور احتجاجی مقام کے انتظامات میں تال میل قائم کیا، استغاثہ کے لیے اہم ہو سکتا ہے، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کے پاس کئی مقامات پر فیصلہ کن اختیار تھا۔
فروری 2020 میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران شمال مشرقی دہلی میں تشدد بھڑک اٹھا تھا، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں نامزد 20 ملزمان میں سے دو اب بھی مفرور ہیں، جبکہ سات ملزمان تاحال جیل میں ہیں۔





