سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہر نظر ثانی (ایس آئی آر) پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کرائے گئے ایس آئی آر میں کوئی خامی نہیں ہے اور اسے غیر آئینی قرار نہیں دے سکتے ہیں۔ اب اس پر سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو کا ردعمل سامنے آیا ہے، جو اس معاملے میں عرضی گزار بھی ہیں۔
یوگیندر یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں آج ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے لیے موجود نہیں ہوا تھا۔ اس معاملے میں ایک مدعی ہونے کے ناطے اور عدالت کو مخاطب کرنے کا اعزاز پانے والے شخص کے طور پر مجھے پُرامید، فکرمند یا کم از کم متجسس ہونا چاہیے تھا لیکن میں نہیں تھا۔ معاملہ بہت پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔ ہم صرف فیصلے کی کاپی اور اس کی باریک تفصیلات کا انتظار کر رہے تھے۔‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں یوگیندر یادو نے مزید لکھا کہ ’’اس معاملے کا فیصلہ گزشتہ سال اگست میں ہوا تھا۔ 3 دنوں تک ایس آئی آر کے خلاف دلائل سننے کے بعد عدالت نے ایس آئی آر کی آئینی حیثیت کی جانچ کرنے کے بجائے خود کو مؤثر طور پر ایک کنزیومر فورم میں تبدیل کر دیا، جو آئینی اصولوں کے بجائے شکایات کے ازالے اور ثالثی پر مرکوز تھا۔‘‘
یوگیندر یادو کے مطابق اس معاملے کا فیصلہ تب مؤثر طور پر ہو گیا جب سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل ہی الیکشن کمیشن کو بہار اسمبلی انتخاب جلد بازی میں کرانے کی اجازت دے دی۔ جب الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی کارروائی شروع کی تب اس معاملے میں بہت کم گنجائش بچی تھی، جبکہ عدالت نے اس کے آئینی جواز پر دلیلیں آرام سے سنیں۔ ایس آئی آر ایک حتمی حقیقت بن چکا تھا۔ باقی کا شک تب دور ہو گیا جب ججوں نے عدالت میں کہا کہ کسی کو بھی ایس آئی آر میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر یوگیندر یادو نے مزید کہا کہ ’’قانونی داؤ پیچ سے ہٹ کر سادہ سی سچائی یہ ہے کہ ایک آئینی جمہوری ملک کی سپریم کورٹ نے پہلے ہی لاکھوں شہریوں کے ووٹ کا حق چھیننے کی اجازت دے دی ہے – جن کی تعداد اب تک کم از کم 59 ملین ہے اور یہ تعداد تقریباً 100 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔‘‘ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’یہ سوچنا بھی ناممکن تھا کہ عدالت اب ایس آئی آر کو غیر آئینی قرار دے گی یا پھر ایس آئی آر کے بعد ہوئے تمام انتخابات کو منسوخ کر دے گی۔ وکیل اس قطعی قانونی دلیل کا انتظار کر رہے تھے جس کی بنیاد پر وہ اس نتیجہ پر پہنچے تھے جو پہلے سے ہی معلوم تھا۔‘‘
سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’اس طرح کی قانونی پیچیدگیوں میں میری کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کچھ دوست اس امید میں تھے کہ عدالت کم از کم ووٹرس کو نہ بچا پائی تو اپنی ساکھ تو بچا لے گی۔ آخرکار ایسا بھی نہیں ہوا۔ رسمی بیانات کو چھوڑ دیں تو عدالت نے الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹ کے ساتھ جو چاہے کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































