
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ نیشنل ہیرالڈ محض ایک اخبار نہیں بلکہ آزادی کی جدوجہد کی علامت ہے، جسے 1938 میں مجاہدین آزادی نے قائم کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی تاریخی وراثت کو نشانہ بنا کر سیاسی دباؤ کے تحت ای ڈی اور دیگر تفتیشی ایجنسیوں کو استعمال کیا گیا۔ کھڑگے کے مطابق عدالت نے جس طرح کارروائی کے بنیادی نکات، دائرہ اختیار اور قانونی تقاضوں کو سامنے رکھا، اس سے یہ بات ثابت ہو گیا کہ الزام تراشی کی بنیاد کمزور تھی۔
کانگریس صدر نے مزید کہا کہ برسوں تک تفتیشی ایجنسیوں نے خود اپنی فائلوں میں یہ تحریر کیا کہ اس معاملے میں کوئی ایسا بنیادی جرم نہیں بنتا جس کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔ اس کے باوجود اچانک مقدمات، پوچھ گچھ، طلبیاں اور جائیدادیں منسلک کرنے جیسے اقدامات کیے گئے۔ کھڑگے نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی کوئی مضبوط مقدمہ تھا تو اتنے طویل عرصے تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی!





