عالمی تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ…ایف اے مجیب

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 1, 2026358 Views


انسانی تاریخ کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت تک لے جاتا ہے کہ ہدایتِ الٰہی کا سلسلہ کسی ایک خطے، قوم یا زمانے تک محدود نہیں رہا۔ اسلامی تصور کے مطابق یہ رہنمائی حضرت آدمؑ سے شروع ہوئی اور مختلف ادوار میں مختلف اقوام کی طرف انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ ہر دور میں انسانیت کو اس کی فکری سطح اور سماجی حالات کے مطابق پیغام دیا گیا۔ اسی تسلسل کی آخری اور مکمل کڑی ساتویں صدی عیسوی میں حضرت محمد ﷺ کی بعثت کی صورت میں ظاہر ہوئی—ایک ایسا عالمی لمحہ جس نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا اور انسانی فکر و عمل کو نئی سمت عطا کی۔

ساتویں صدی کا آغاز ایک شدید سیاسی اور فکری بحران کے ساتھ ہوا۔ مغرب میں بازنطینی سلطنت اور مشرق میں ساسانی سلطنت صدیوں سے برسرِ پیکار تھیں۔ 602ء سے 628ء تک جاری رہنے والی طویل جنگوں نے دونوں طاقتوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ خزانے خالی ہو چکے تھے، عوام بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اور مذہبی اختلافات نے معاشروں کو تقسیم کر رکھا تھا۔ سیاسی طاقتیں بظاہر وسیع تھیں، مگر ان کی اخلاقی بنیادیں کمزور ہو چکی تھیں۔ مذہبی پیشوائیت عام انسان سے دور ہو گئی تھی اور حکمران طبقہ عوامی مسائل سے بے نیاز دکھائی دیتا تھا۔ انسان علم میں ترقی کر رہا تھا—یونانی فلسفہ محفوظ تھا، رومی قانون منظم شکل میں موجود تھا، ایرانی نظمِ حکومت مستحکم تھا—مگر اخلاقی اور روحانی بحران شدت اختیار کر چکا تھا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...