
واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے پیپر لیک معاملہ پر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے، جس کی نگرانی ایک ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کر رہے ہیں۔ ایس آئی ٹی کو ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ جانچ شفاف اور غیر جانبدار ہوگی اور قصورواروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس نے حکومت پر حملہ تیز کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اصل سچائی چھپانے کے لیے ایس آئی ٹی کا سہارا لے رہی ہے۔ کانگریس رہنماؤں کے مطابق اگر حکومت کو واقعی نوجوانوں کی فکر ہوتی تو وہ فوری طور پر سی بی آئی جانچ کا اعلان کرتی۔
فی الحال احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور طلبہ کے نعرے ’پیپر چور، گدی چھوڑ!‘ ریاست کے کئی حصوں میں گونج رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں اتراکھنڈ کی سیاست میں ایک بڑا انتخابی مدعا ثابت ہو سکتا ہے۔






