
تاہم، ٹرین مقررہ وقت سے ڈھائی گھنٹے تاخیر سے پہنچی، جس کے باعث طالبہ وقت پر امتحانی مرکز نہیں پہنچ سکی اور نیٹ کا اہم امتحان چھوٹ گیا۔ اس واقعے سے طالبہ کی برسوں کی محنت اور ایک پورا تعلیمی سال ضائع ہو گیا، جس کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو گئی۔
متاثرہ طالبہ نے اس معاملے پر ریلوے انتظامیہ سے رابطہ کیا اور وزارت ریلوے، جنرل منیجر اور اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس بھی بھیجے، مگر کوئی جواب نہ ملنے پر اس نے 11 ستمبر 2018 کو ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن میں مقدمہ دائر کر دیا۔






