
این ایس یو آئی رہنماؤں نے کہا کہ ماہواری کے دوران صحت کے مسائل طالبات کی تعلیمی کارکردگی، ذہنی سکون اور یونیورسٹی کی سرگرمیوں میں شمولیت پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس ضرورت کو نظرانداز کرنے کا مطلب ہے کہ کئی طالبات جسمانی تکلیف کے باوجود کلاسز میں شریک ہوں یا صحت سے سمجھوتہ کریں تاکہ حاضری کے معیار پر پورا اتریں۔
تنظیم نے دہلی یونیورسٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک حساس اور جامع پالیسی اپنائے جو طالبات کو اس عرصے میں بغیر کسی تعلیمی نقصان یا سزا کے چھٹی لینے کا حق فراہم کرے۔ اس پالیسی میں یہ اعتراف ہونا چاہیے کہ ماہواری کے دنوں میں جسمانی و ذہنی دباؤ پڑھائی پر اثر ڈال سکتا ہے، اور ادارے کو چاہیے کہ ایسی صورتحال میں طالبات کا بھرپور تعاون کرے۔





