
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مقدمے کی سنگینی اور جرم کی نوعیت کے پیش نظر ضمانت دینا مناسب نہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ الزامات نہ صرف مالی دھوکہ دہی سے متعلق ہیں بلکہ ادارے سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کی خلاف ورزی بھی شامل ہے۔
دریں اثنا، دہلی پولیس نے کارروائی تیز کرتے ہوئے چیتنیانند سے متعلق 18 بینک اکاؤنٹس اور 28 فکسڈ ڈپازٹس (ایف ڈیز) کو منجمد کر دیا، جن میں تقریباً 8 کروڑ روپے موجود تھے۔ تفتیشی اداروں کے مطابق یہ رقم ان ٹرسٹس سے تعلق رکھتی ہے، جنہیں چیتنیانند نے دھوکہ دہی کے ذریعے بنایا اور جن کے ذریعے وہ ادارے کی جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔





