
1991 کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو کامیابی ملی اور خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی تھا بلکہ ملک کی سیاسی تاریخ میں بھی ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ وہ 1991 سے 1996 تک وزیرِ اعظم رہیں اور بعد ازاں 2001 سے 2006 کے دوران دوسری مرتبہ اس منصب پر فائز ہوئیں۔
ان کے ادوارِ حکومت میں جمہوری اداروں کے استحکام، معیشت کی بہتری، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے اقدامات کیے گئے، تاہم سیاسی کشیدگی، الزامات اور سخت عوامی تنقید بھی ان کے حصے میں آئی۔ اس کے باوجود ان کے حامی انہیں ایک جری اور ثابت قدم رہنما قرار دیتے ہیں، جس نے مشکل حالات میں قیادت سنبھالی اور اقتدار کے نشیب و فراز کا سامنا کیا۔
خالدہ ضیاء کا سیاسی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ ذاتی صدمات بھی اگر عزم اور حوصلے سے جھیلے جائیں تو وہ تاریخ ساز کردار میں ڈھل سکتے ہیں۔






