صحت مند قوم کی تعمیر کیلئے لوگ گندگی سے پرہیزکریں

AhmadJunaidBlogs & ArticlesJuly 10, 2025380 Views

از قلم۔۔گلزار گنائی

انسان نے جب سے دنیا میں قدم رکھا ہر وقت اُس نے اپنی زندگی کو بہتر کرنے کی کوشش کی جس طرح کے مشکلات انسان اپنے زندگی کے سفر میں دوچار رہا وہ کسی سے چھپا تو نہیں ہے اگر غور سے اس بات کی طرف توجہ دیتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ انسان نے بہت ہی تکلیفوں کاسامنا کیا ہے اور اپنی زندگی کو آسان بنانے کیلئے اُسے کن کن مرحلوں سے گذرنا پڑا شائد وہ سوچنا بھی ہمیں پریشان کرسکتا ہے تاہم آجکل انسان بہت ساری سہولیات کا مالک ہے اگر پوری دنیا کی طرف دیکھیں تو بہت سارے ممالک میں بہت ساری تعمیر ترقی ہمیں نظر آتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان نے قدیم زمانے سے لیکر اس ترقی یافتہ زمانے تک پہنچ کر بہت کچھ حاسل کیا ہے اگر یوں کہیں کہ انسان کو شاید تب اس بات کا اندازہ بھی نہیںرہا ہوگا کہ وہ ایک زمانے میں خلا کی سیر بھی کررہا ہوگا کیونکہ جس زمانے کو انسان نے دیکھا ہے اُس زمانے میں انسان کو زمین پر جینا بھی مشکل کام نظر آتا تھا کیونکہ اُس کے پاس اس قدر سہولیات دستیاب نہیں تھی جسکی وجہ سے اُس کے مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ ہی نظر آتا تھا ظاہر سی بات ہے آج بھی جہاں انسان کو بہتر سہولیات دستیاب نہیں ہوتی وہاں اُسے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسے میں انسان کی کوشش رہتی ہے کہ وہ ہر شعبہ میں اس قدر ترقی حاصل کرے کہ اُسے کسی بھی چیز میں کوئی کمی محسوس نہ ہو کیونکہ انسان کی مشکلات کا خاتمہ وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا گیا اور انسان نے بھی آرام کی زندگی جینے کا عادی ہوگیا ایسے میں کیا آج کا انسان کسی بڑی مصیبت یا آفت کا سامنا کرسکتا ہے یہ آج ایک سوال ہے اگر موجودہ وقت کی ہی ہم بات کریں تو کورونا کی شکل میں دنیا کے ہر کونے میں زندگی بسر کرنے والے ہر ایک شخص کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اگر یوں کہیں کہ انسان کو ایسا بھی محسوس ہونے لگا کہ اب شاید اُس کے وجود کو ہی خطرہ ہے غلط نہیں ہوگا کیونکہ کسی بھی ناگہانی افت سے کم نہیںتھا کورونا کیونکہ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک کی تباہ کُن وبائی بیماری کا شکار نہ ہوا ہو اور ایسے میں پوری دنیا کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا تھا اگر چہ ابھی بھی اس سے ہمیں پوری طرح سے نجات نہیں مل گئی ہے تاہم راحت کی سانس انسان نے تب لی جب اس وبائی بیماری میں کمی آنے لگی اور زندگی پھر سے بحال ہونے لگی تاہم جو تین سال گذرے پوری دنیا میں وہ قیامت سے کم نہیں تھے جہاں مالی نقسان کا پوری دنیا نے سامنا کیا وہیں ہزاروں لاکھوں جانیں بھی تلف ہوئیں اور ایسے میں تمام ممالک نے ایک دوسرے کی مدد کی اور اس مد د کی وجہ سے ہی ہم آج پھر ایک بار خود کو محفوظ سمجھ رہیں ہیںاب سوال پید اہوتا ہے کہ اگر انسان نے اس قدر ترقی حاصل کی تو کیا وجہ ہے کہ آجکل کا انسان اگر ہم اپنی وادی کشمیر کی بات کریں ابھی تک بھی صفائی کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکا کیونکہ جہاں بھی دیکھتے ہیں اس خوبصورت وادی میں گندگی کے ڈھیر ہی ہمیں نظر آتے ہیں کیا اس گندگی کو باہر سے کوئی لاتا ہے اگر نہیں تو یہ گندگی آتی کہاں سے ہے کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ہم نے ابھی تک بھی زندگی جینے کا مقصدنہیں سیکھا ہے اگر ایسا ہے تو ہمارے جینے کا فائدہ کیا ہے وادی کشمیر کو قدرت نے اس قدر خوبصورت بنایا ہے کہ دنیا کے بڑے اور امیر ترین ممالک کے لوگ یہاں اس وادی کی خوبصورتی کو دیکھنے کی تمنا رکھتے ہیں اگرہمیں بس اس بات کا احساس ہوتا تو شاید ہم اپنی اس خوبصورت وادی کو گندگی کی وجہ سے کوڑھے داں میں تبدیل نہیں کرتے ہماری آمدنی کا ذریعہ ہی ہماری صفائی ہے جس قدر ہم اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف رکھیں گے اُس قدر ہم اپنے لئے روزگار حاصل کریں گے کیونکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اپنی چھٹیاں اُن ہی مقامات پر گذارنا پسند کرتے ہیں جہاں ماحول صاف شفاف ہو اور جہاں کی خوبصورتی انسان کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہو قدرت نے ہماری وادی کو اس قابل بنایا تھا کہ دنیا کے لوگ یہاں آکر کچھ وقت گذارنے میں دلچسپی لیتے تھے جس کا ثبوت اس سال کا وہ ریکارڑ ہے جس میں وادی کی طرف لاکھوں سیاحوں نے رُخ کیا جو ہماری آمدنی کا ذیعہ بھی بن گیا تاہم اگر وادی کشمیر کے چند سیاحتی مقامات کو چھوڑ کر دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صر ف یہی چند سیاحتی مقامات ہی ہماری وادی میں خوبصورت ہے جبکہ دوسری تمام جگہوں کو ہم نے اس قدر گندگی کی وجہ سے تباہ کردیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وادی ایک کوڑھے داں سے کم نہیں اُس کے ذمہ دار ہم خود ہیں کیونکہ بہت سے لوگ سرکار کو اس کا ذمہ دار ٹھرانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے یہاں صحت صفائی کا پورا نظام درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے جسے جہاں دل چائے وہاں گندگی ڈال کر چلا جاتا ہے اور کسی کو اس کی طرف توجہ نہیں کہ ہم یہ سب اہنی تبائی کیلئے کررہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں بصورت دیگر مشکلات کا سامنا ہی کرنا پڑ سکتا ہے جو کہ ہماری بد نصیبی سے کم نہیں ہے۔۔۔۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...