شیخ حسینہ کے بیٹے سجیب واجد کا بیان

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 12, 2026358 Views


سجیب واجد نے دعویٰ کیا کہ انتخابی نتائج پہلے سے طے ہیں۔ ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی متوقع ہے اور ان انتخابات کے نتائج کو کسی بھی طرح تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

بنگلہ دیش میں آج  ہونے والے عام انتخابات سے عین قبل سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے صاحبزادے سجیب واجد نے انتخابی عمل اور موجودہ سیاسی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی سے ’آج تک ‘کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں واجد نے انتخابات کو دھوکہ دہی قرار دیا اور بنگلہ دیش کے عوام سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی نتائج پہلے سے طے ہیں اور بڑے پیمانے پر دھاندلی ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جماعت اسلامی برسراقتدار آئی تو بنگلہ دیش میں انتہا پسندی، شرعی قانون اور دہشت گردی بڑھ سکتی ہے۔

انٹرویو میں سجیب واجدنے کہا کہ بنگلہ دیش کی سب سے پرانی اور سب سے بڑی جماعت عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی لیگ تاریخی طور پر ہر الیکشن میں 30 سے ​​40 فیصد ووٹ حاصل کرتی رہی ہے لیکن اس بار اس پر سرکاری طور پر پابندی لگائی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نہ صرف عوامی لیگ بلکہ تمام ترقی پسند سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسری سب سے بڑی پارٹی ’جاتیہ پارٹی ‘پر سرکاری طور پر پابندی نہیں ہے لیکن  اس کے کئی رہنماؤں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے، ان کے دفاتر اور گھروں کو جلا دیا گیا ہے، اور انہیں انتخابی مہم چلانے سے روک دیا گیا ہے۔ اس سے انتخابات مکمل طور پر یک طرفہ ہو گئے ہیں جس کا فائدہ حزب اختلاف کی جماعت بی این پی اور جماعت اسلامی کو ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابات جمہوری حکومت کی بین الاقوامی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے محض رسمی طور پر کرائے جا رہے ہیں۔ یہ محض دھوکہ ہے۔ ان کے مطابق اس الیکشن کا بنیادی مقصد جماعت اسلامی کو اقتدار میں لانا یا اسے پارلیمنٹ میں مضبوط پوزیشن دینا ہے۔ سجیب واجد نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں عوامی لیگ کے 500 سے زائد کارکنوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 سے ​​زائد کارکن پولیس حراست میں ہلاک ہوئے اور ہزاروں سیاسی مخالفین کو قید کیا گیا ہے۔ بہت سے رہنما ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں، اور انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

انٹرویو میں سجیب واجد نے جماعت اسلامی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کا بیان کردہ ہدف شریعت کا نفاذ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اقتدار میں آئی تو خواتین پر پابندیاں لگ سکتی ہیں اور اقلیتوں پر حملے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بنگلہ دیش کو دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل کر سکتا ہے جس سے پڑوسی ممالک خاص طور پر ہندوستان متاثر ہو گا۔

سجیب واجدنے کہا کہ ان کی والدہ شیخ حسینہ سے انتخابات کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ ان انتخابات سے سخت مایوس ہیں اور بنگلہ دیش کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ خاص طور پر جماعت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور دہشت گردی کے خطرے سے پریشان ہیں۔

سجیب واجد نے بنگلہ دیش کے نوجوانوں سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن میں پہلے ہی دھاندلی ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جعلی ووٹنگ کی سہولت کے لیے پہلی بار پوسٹل بیلٹ سسٹم متعارف کرایا گیا تھا۔ کویت اور بحرین سے ہزاروں پوسٹل بیلٹ پر مہر لگنے کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ انتخابی بیلٹ پیپرز جماعتی رہنماؤں کے گھروں میں چھاپے جا رہے ہیں اور کئی جگہوں پر ووٹنگ سرکاری آغاز سے پہلے شروع ہو گئی ہے۔

انٹرویو کے دوران سجیب واجد نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کی واپسی اسی صورت میں ممکن ہے جب عالمی برادری ان انتخابات کو غیر قانونی قرار دے کر حکومت پر دباؤ ڈالے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں بہت سے قانون سازوں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے بنگلہ دیش کے انتخابات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقلیتوں کے تحفظ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...