شیئر بازار میں مچ گیا تہلکہ، ایران اور اسرائیل-امریکہ جنگ کے باعث سرمایہ کاروں کے ڈوب گئے 19 لاکھ کروڑ روپے

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 7, 2026359 Views


پی جی آئی ایم انڈیا میوچوئل فنڈ کے سی آئی او ونے پہاڑیا نے وارننگ دی کہ ’’جغرافیائی سیاست سے وابستہ اثرات کچھ وقت کے لیے ہو سکتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کے اثرات طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

i

user

ایران-اسرائیل جنگ کے دوران شیئر بازار میں گزشتہ 5 کاروباری دنوں سے بڑی تباہی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ نفٹی میں سرمایہ کرنے والے سرمایہ کاروں کے گزشتہ 5 دنوں میں 19 لاکھ کروڑ روپے سے زائد ڈوب گئے ہیں۔ امریکہ-ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی سے عالمی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے اور وارننگ دی گئی ہے کہ خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتی ہے۔ اس زبردست فروخت کے باعث بامبے اسٹاک ایکسچینج کا اہم انڈیکس 3330 پوائنٹس تک گر گیا۔ دوسری جانب نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا اہم انڈیکس نفٹی بھی 1.046 پوائنٹس تک نیچے آیا ہے۔ اس کی وجہ سے سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا یہ صرف ایک ’کریکشن‘ (عارضی گراوٹ) ہے یا مکمل طور سے کساد بازاری کے دور کی شروعات ہے۔

پی ایس یو بینک، سیاحت اور ایئرلائن اسٹاک، ریئل اسٹیٹ، بینکنگ اور آٹو سیکٹر میں گراوٹ آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ نے ضروری تیل اور گیس کی سپلائی میں رکاوٹ ڈالی ہے، جس سے خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور ہندوستان کے نازک دوہرے خسارے پر خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ڈیفنس اسٹاک ہی بڑے فاتح کے طور پر ابھرے، جن میں مجھگاؤں ڈاک، سولر انڈسٹریز اور پارس ڈیفنس جنگ کے دوران بڑھے۔ وینچورا سیکورٹیز کے ریسرچ ہیڈ ونیت بولنجکر نے ای ٹی کی رپورٹ میں کہا کہ مسلسل ایف آئی آئی آؤٹ فلو ایک بڑی ڈی-رِسکنگ اسٹریٹجی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی تناؤ اور برینٹ کروڈ کے 94 ڈالر تک پہنچنے سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے جذبات پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

خسارے کا درد سینسیکس اور نفٹی کے اندازے سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ کم از کم 1000 کروڑ کے مارکیٹ کیپٹلائزیشن والے تقریباً 80 فیصد لسٹڈ اسٹاک پہلے ہی اپنے آل ٹائم ہائی سے 20 فیصد گر چکے ہیں، تکنیکی طور پر بڑے مارکیٹ کو بیئر مارکیٹ میں ڈال دیا ہے، جبکہ نفٹی اپنے عروج سے صرف 7 فیصد نیچے ہے۔ ٹیکنیکل انڈیکیٹرس ہر طرف سرخ نشان پر نظر آ رہے ہیں۔ مارکیٹ شارٹ-ٹرم اور میڈیم-ٹرم اوسط سے کافی نیچے ٹریڈ کر رہی ہے اور ڈیلی چارٹس پر ایک لوئر ٹاپ بن رہا ہے۔ ہفتہ وار چارٹ پر ایک بیئرش کینڈل بھی موجود سطح سے مزید کمزوری کی نشاندہی کر رہی ہے۔

بولنجکر نے وارننگ دی کہ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور خام تیل کی مہنگائی کی وجہ سے شارٹ-ٹرم آؤٹ لُک محتاط بنا ہوا ہے۔ انہیں امید ہے کہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہے گا، جس سے کیپیٹل گڈس اور کنزیومر ڈیوریبلس جیسے گھریلو شعبوں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ عالمی سطح پر ایکسپوزڈ پاکیٹس کو منسلک شعبوں کو میکرو غیر یقینی صورت حال ختم ہونے تک مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’ڈی آئی آئی کُشن‘ کی وجہ سے بنیادی ڈھانچہ برقرار ہے، مسلسل ایس آئی پی اِن فلو سے مستحکم ہوئے مقامی اداروں نے فروخت کے دباؤ کو برداشت کیا ہے اور نفٹی کے ضروری 24,300 سپورٹ لیول سے مزید نیچے گرنے سے روکا ہے۔

جیو جیت انویسٹمنٹس کے ریسرچ ہیڈ ونود نائر نے بھی ای ٹی کی رپورٹ میں اتنی ہی خراب تصویر کھینچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے سرمایہ کاروں کے جذبات پر اثر پڑ سکتا ہے اور ہندوستان کے دوہرے خسارے، مہنگائی کی رفتار اور آر بی آئی کے مانیٹری موقف پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکہ کے 10 سالہ بانڈ ییلڈ میں اضافے اور ڈالر کے مضبوط ہونے کی وجہ سے ایف آئی آئی گھریلو ایکویٹیز کے تئیں رسک-آف ایپروچ اپنا رہے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منتخب ویلیو-بائنگ کے مواقع سامنے آنے کی امید ہے، جو طویل مدتی سرمایہ کاروں کو داخلے کے پرکشش انٹری پوائنٹس فراہم کریں گے۔

ہر سرمایہ کار کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا یہ طویل مدتی گراوٹ کا آغاز ہے یا خریداری کا موقع؟ اس سوال پر فنڈ مینیجرز منقسم نظر آ رہے ہیں۔ پی جی آئی ایم انڈیا میوچوئل فنڈ کے سی آئی او ونے پہاڑیا نے میڈیا رپورٹ میں کہا کہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم اچھی خبروں اور کئی غیر یقینی حالات کا مجموعہ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اچھے جی ڈی پی پرنٹس، آنے والے تجارتی معاہدوں، کم شرح سود اور بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کو مثبت چیزوں کے طور پر پیش کیا، جبکہ عالمی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال اور ٹریڈ روٹس پر اس کے اثرات، خام تیل اور ممکنہ طور پر دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، اور تمام شعبوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق رکاوٹوں کو بھی نشانہ بنایا۔

پہاڑیا نے وارننگ دی کہ جغرافیائی سیاست سے وابستہ اثرات کچھ وقت کے لیے ہو سکتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کے اثرات طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔ ان کے لیے بزنس ماڈل میں تبدیلی اور متاثرہ کمپنیوں کو تیزی سے خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہوگی، اور ممکن ہے کہ تمام کمپنیاں اسے اپنا نہ پائیں۔ ساتھ ہی انہوں ںے سرمایہ کاروں سے شارٹ-ٹرم اتار چڑھاؤ کو کو دیکھنے اور خود کار ترقی والے شعبوں پر توجہ مرکوز رکھنے کی اپیل کی۔ دوسری جانب اے ایس کے انویسٹمنٹ مینیجرس کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی تجارتی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے بازار میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کی امید ہے، لیکن ہندوستان کے لیے سرمایہ کاری کا معاملہ مضبوط بنا ہوا ہے۔ تقابلی میکرو استحکام، بہتر تجارتی مسابقت اور کمائی میں ریکوری نے ہندوستان کو مضبوط پوزیشن میں لا دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لارج کیپس کی طرف جھکاؤ کا مشورہ دیا ہے، جہاں ویلیو ایشن نسبتاً بہتر ہے اور مستقبل میں کمائی کی صورت حال مضبوط بنی ہوئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...