
کوئی ایک دورہ دو سال کی تکالیف اور خلیج کو ختم نہیں کر سکتا۔ مگر ایک ایسے خطے کے لیے جو دہلی کی توجہ کا عادی نہیں، یہ دورہ اپنی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ مودی اور بی جے پی کے لیے امید یہ ہے کہ یہ قدم کم از کم شروعات کا پیغام دے اور ریاست کے مستقبل پر کچھ سرمایہ لگانے کی آمادگی دکھائے۔
عوام کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ دورہ محض وقتی اعلانات تک محدود رہے گا یا واقعی انصاف، امن اور بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ اصل فیصلہ آنے والے مہینوں کے عملی اقدامات پر ہوگا، نہ کہ آج کے بیانات پر۔
آخرکار، مودی کا یہ دورہ ایک ایسا سیاسی جوا ہے جو یا تو امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے یا پھر تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے، اگر بحالی اور انصاف کے وعدے ایک بار پھر ادھورے رہ گئے۔
(حسنین نقوی، سابق رکن، سینٹ زیویئرز کالج ممبئی کے شعبۂ تاریخ)




