
فی الوقت بی اے اور ایم اے ملا کر شعبہ میں تقریباً 200 طلبا و طالبات ہیں۔ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ جب میں نے یہ کالج جوائن کیا تھا اس وقت یہاں کلاسز کا کوئی تصور نہیں تھا۔ طلبا داخلہ لے کر دوسرے کاموں میں مصروف رہا کرتے تھے۔ شعبہ سے ان کا رشتہ محض داخلہ اور امتحان فارم بھرنے تک ہی تھا۔ میں نے سب سے پہلے اس مکروہ روایت کو ختم کیا اور تمام طلبا کے لیے کلاسز میں شامل ہونا لازمی قرار دیا۔ میرے اس فیصلہ سے ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ مجھے کئی مہینے تو طلبا کو یہ بات سمجھانے میں صرف ہو گئے کہ یہاں کلاسز بھی ہوتی ہیں۔
بہرحال، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ میری کوششیں رنگ لائیں اور شعبہ میں درس و تدریس کا از سر نو آغاز ہوا۔ کلاس روم ٹیچنگ کے علاوہ میں نے مختلف غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعہ اپنے طلبا کی پوشیدہ صلاحیتیں بیدار کیں۔ انہیں یہ ذہن نشیں کرایا کہ وہ ایک ہندوستان کی سب سے خوبصورت اور شیریں زبان کے طالب علم ہیں، جس کی ایک مہتم بالشان تاریخ ہے۔ اس زبان کے شاعر اور ادیبوں نے نہ صرف حب الوطنی اور انسان دوستی کے نغمے گائے بلکہ یہاں ایک عظیم مشترکہ تہذیب اور وراثت کی بنیاد رکھی۔ علاوہ ازیں میں نے کافی حد تک یہ بات ذہن نشیں کرانے میں کامیابی حاصل کی کہ اردو کے طلبا کا مستقبل بھی روشن و تابناک ہو سکتا ہے، اگر سلیقے سے تعلیمی مراحل طیے کیے جائیں۔ میں نے اردو مضمون کو طلبا میں مقبول بنانے کے لیے کچھ اہم اقدامات بھی کیے ہیں، مثلاً وقتاً فوقتاً اردو مضمون نویسی مقابلہ کا انعقاد، حمد-نعت و غزل سرائی مسابقہ، یوجی سی نیٹ اور بی ایڈ میں داخلہ کے لیے خصوصی کلاسز کا انعقاد وغیرہ۔






