
شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد بنگلہ دیش میں جاری تشدد نے شدت اختیار کر لیا ہے۔ مختلف شہروں سے سامنے آنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق، صحافیوں کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے، سفارتی تنصیبات کے اطراف بدامنی پھیل رہی ہے اور تعلیمی ادارے بھی سیاسی کشمکش کی زد میں آ گئے ہیں، جس سے ملک میں عدم استحکام نظر آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جنوب مغربی شہر کھلنا میں ایک چونکا دینے والے واقعے میں سینئر صحافی امدادالحق ملن کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں ایک اور شخص زخمی ہوا ہے، جسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ مقتول صحافی شالوا پریس کلب کے صدر تھے اور مقامی سطح پر ایک سرگرم صحافتی آواز کے طور پر جانے جاتے تھے۔






