ایشیا کے بہترین رینگنے والے جانوروں کے محفوظ علاقوں میں سے ایک ’پراسینکڈاوو اسنیک پارک‘ سے دھواں اسی وقت اٹھ چکا تھا، جب پینارائی وجین کیرلم کی سب سے طاقتور سیاسی شخصیت نہیں بنے تھے۔ 1980 کی دہائی کے آخر میں، اپنے سیاسی گرو (استاد) سے حریف بنے ایم وی راگھون سے ملی انتخابی شکست کے بعد، کنور میں سی پی ایم کارکنوں نے غصہ مخالفین پر نہیں بلکہ اس اسنیک پارک پر نکالا، جس کا منتظم راگھون سے جڑا ٹرسٹ تھا۔ راگھون کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف میں شامل ہو کر پارٹی کے اپنے ہی قلعہ میں اسے چیلنج دے رہے تھے۔
اس کے بعد جو ہوا وہ خوفناک تھا۔ باڑوں میں آگ لگ گئی۔ کنگ کوبرا اور نایاب نسل کے سانپ زندہ جل گئے۔ درختوں سے پرندے گرنے لگے۔ جان بچا کر بھاگتے بندر اور چھوٹے جانور بھی شکار بن گئے۔ یہ ہولناک منظر گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس وقت وجین کنور کے سب سے طاقتور ضلعی سکریٹری تھے۔ پارٹی کو اس واقعہ سے الگ رکھنے کے بجائے انہوں نے نیوٹن کے تیسرے قانون کا حوالہ دیا اور تشدد کو ایک ’برابر اور مخالف ردِعمل‘ قرار دیا۔ یہ اس سیاسی فہم کی ایک جھلک تھی جسے بہتر انداز میں معلوم تھا کہ کس طرح کے رد عمل میں ہر حد پار کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
اب جب کیرلم 9 اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے، وجین محض کنور میں اپنے آبائی حلقہ دھرمدم سے مسلسل تیسری بار انتخاب نہیں لڑ رہے۔ حکمراں ’لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ‘ (ایل ڈی ایف) کے مرکزی مہم کار کے طور پر وہ ووٹرس سے اپنے گزشتہ 10 سالہ دور حکومت کو جائز قرار دینے کی اپیل کر رہے ہیں، ایک ایسا دور حکومت جس نے بتدریج ان جمہوری اور نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، جن پر کبھی ہندوستانی ’بائیں بازو‘ کھڑا نظر آتا تھا۔
ایل ڈی ایف کے اندرونی و بیرونی ناقدین کا ماننا ہے کہ جو شروعات ایک مستحکم انتظامیہ کے وعدے سے ہوئی تھی، وہ ایک ایسے سخت کنٹرول والے سیاسی نظام میں تبدیل ہو چکی ہے، جو محض ایک لیڈر پر مرکوز ہے۔ اس لیے یہ انتخاب تسلسل کے بارے میں کم، اس بات کے بارے میں زیادہ ہے کہ کیا کیرلم اقتدار کے ایسے ماڈل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے، جس کی مخالفت کا بائیں بازو کا اپنا ہی تاریخی پس منظر رہا ہے۔ ایک ایسا ماڈل جو نریندر مودی کے اقتدار والے مرکزی ڈھانچوں سے زیادہ مختلف نہیں رہ گیا ہے۔
حامیوں کے لیے وجین کی سیاسی زندگی ان کی ثابت قدمی اور مسلسل عروج کی کہانی ہے۔ دھرمدم کے قریب پینارائی گاؤں میں تاڑی مزدور غریب خاندان میں پیدا ہونے والے وجین کا سی پی آئی ایم کے اندر عروج، گروہ بندی میں الجھی ایک پارٹی میں اقتدار کی گہری سمجھ کا مظہر ہے۔ ایسے ماحول سے جہاں سی پی آئی ایم اور بی جے پی-آر ایس ایس کارکنوں کے درمیان انتقامی قتل کا سلسلہ تھا، جہاں دیسی بم اور چاقو سیاسی پیغام کے ہتھیار تھے، وجین ایک ایسے شخص کے طور پر ابھرے جس میں اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کی صلاحیت تھی، جو مخالفین کو بے اثر کر سکتا تھا، نظم قائم رکھ سکتا تھا۔ اس سیاسی ثقافت کا سایہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ 2012 میں سی پی آئی ایم کے باغی رہنما ٹی پی چندرشیکھرن کے وحشیانہ قتل کو لوگ آج بھی اختلاف رائے کے تئیں عدم برداشت کی علامت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ وجین نے مسلسل اس میں اپنی شمولیت سے انکار کیا ہے، لیکن تنازعہ برقرار ہے؛ اور سی پی آئی ایم کے ان کارکنوں کو بار بار پیرول ملنے، ان کے ساتھ ’خصوصی‘ سلوک کے الزامات نے اسے اور گہرا کر دیا ہے، جو اس معاملے میں قصوروار تھے۔
چندرشیکھرن کی بیوہ اور اب وٹکرا سے یو ڈی ایف کی حمایت یافتہ امیدوار کے کے راما کا الزام ہے کہ ’’وجین کی پرورش کردہ تشدد کی سیاست نے ایک ایسے کیرلم میں، جسے بصورت دیگر ترقی پسند سمجھا جاتا ہے، جمہوریت کا مذاق بنا دیا ہے۔‘‘ طلبہ سیاست سے شروع ہو کر سی پی آئی ایم کے ریاستی سکریٹری تک کے اپنے طویل سفر میں وجین نے ایک منظم اور اٹل شخصیت کی پہچان بنائی۔ پارٹی کے سینئر ساتھی وی ایس اچیوتانندن کے ساتھ ان کی طویل کشمکش اس وقت ختم ہوئی، جب وجین کا پارٹی نظام پر تقریباً مکمل کنٹرول قائم ہو چکا تھا۔
جب 2016 میں وجین نے عہدہ سنبھالا تو ایسا کوئی اشارہ نہیں تھا کہ وہ کیرلم کی سیاسی ثقافت کو ہی بدل ڈالیں گے۔ ان کے سیاسی سفر کو قریب سے دیکھنے والے سینئر صحافی کے اے اینٹنی کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ فیصلہ کن موڑ ایک بحران کی صورت میں آیا۔ یہ 2018 کا سیلاب تھا، جس کے بعد نپاہ کا پھیلاؤ اور پھر کووڈ وبا آئی۔ کووڈ کے دوران ان کی روزانہ کی پریس بریفنگ، جن کی وضاحت اور تسلسل کی دور دور تک تعریف ہوئی، اس حد تک کہ سارا سیاسی فوکس ایک شخص پر مرکوز ہو گیا… وہ وجین تھے۔‘‘
ریٹائرڈ پروفیسر، مصنف اور سی پی آئی ایم کے سابق کارکن ڈاکٹر آزاد ملایٹّل کہتے ہیں کہ ’’گزشتہ ایک دہائی میں بار بار آنے والے بحرانوں کی وجہ سے ساری طاقت ایک ایسے وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں میں سمٹ گئی، جس نے اختیار اور عوامی رابطے کو ایک ساتھ ملا دیا۔ وہ خود ہی ’سسٹم‘ بن گئے، اور پارٹی کے اندر کے جمہوری طریقے ختم ہو گئے۔‘‘ یہ کیرلم میں ’مودی ماڈل‘ کا داخلہ تھا۔
اقتدار کے اس ارتکاز کی مخالفت بھی ہوئی۔ ان کے دور میں سبریمالا کا مسئلہ سب سے زیادہ گرم اور متنازعہ مسائل میں سے ایک رہا۔ ایلن صہیب اور تھاہا فضل جیسے طلبہ کی یو اے پی اے میں گرفتاری سے یہ خدشہ بڑھا کہ کہیں اختلاف کی آواز کو ہی جرم نہ مان لیا جائے۔ فرضی انکاؤنٹرس میں ہلاکتوں کے الزامات اور پولیس زیادتیوں نے ریاست کے بڑھتے ہوئے جبر پر مبنی کردار کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا۔ سیاہ پرچم والے احتجاج سیکورٹی کے لیے خطرہ بن گئے اور احتجاج کرنے والے یوتھ کانگریس کارکنوں کے ساتھ طاقت کا استعمال ہوا۔ ان حملوں کو وجین نے ’جان بچانے والی مہم‘ قرار دیا۔
پیّانور کے سماجی کارکن این سبرامنیم کہتے ہیں کہ ’’پولیس طاقت پر ضرورت سے زیادہ انحصار ظاہر کرتا ہے کہ اختلاف کی آواز انہیں کس قدر بے چین کرتی ہے، اور وہ مکالمے کے بجائے اسے قابو میں کرنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔‘‘ وزیر اعلیٰ کی بیٹی کے کارپوریٹ لین دین سے جڑے مالی معاملات کو لے کر بھی الزامات ہیں۔ ان کے داماد پی اے محمد ریاض کا وزیر بننا اس بات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ اقتدار کو کس طرح ایک محدود دائرے میں سمیٹا جا رہا ہے۔
کبھی وجین کے قابلِ اعتماد ساتھی رہے بزرگ سی پی آئی ایم لیڈر جی سدھاکرن بعد کے برسوں میں ان کے کھلے ناقد بن گئے، اور اب وہ امبالاپوزا سے یو ڈی ایف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ امبالاپوزا وہی انتخابی حلقہ ہے جو پُنّاپرا اور وائیلار جیسے 2 بغاوتی مقامات کے طور پر مشہور ہے، جہاں سے کیرلم کی بائیں بازو کی سیاست کو توانائی ملی۔ کٹّاناد کے ماحولیاتی کارکن بھدرن بھاسکرن کہتے ہیں کہ ’’سی پی آئی ایم اور حکومت، دونوں اب وزیر اعلیٰ کی ذاتی ملکیت بن چکے ہیں۔ سی پی آئی جیسی اتحادی پارٹیاں تو بس ان کے زیر اثر کام کر رہی ہیں۔‘‘ بھاسکرن نے ساحلی معدنی ریت کی کانکنی اور اس سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کے مسئلے پر پارٹی چھوڑ دی تھی۔
’’وجین کے دور میں ہم نے جو دیکھا، وہ اداروں کا دباؤ ہے۔‘‘ یہ تبصرہ سی پی آئی ایم کے سابق لیڈر سی پی جان کا تھا، جو ایم وی راگھون کے ساتھ پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ راگھون ترووننت پورم سے یو ڈی ایف کے امیدوار ہیں۔ مفکر اور ماہر تعلیم جے رگھو زور دے کر کہتے ہیں کہ ’’پارٹی نے نہ صرف اپنے اصول چھوڑ دیے، بلکہ انہیں اپنے حساب سے نئے سرے سے تشکیل دیا ہے۔‘‘
مصنف اور ثقافتی ناقد ایم این کراسری تبصرہ کرتے ہیں کہ ’’2 نظریاتی کناروں پر ہونے کے باوجود مودی اور وجین دونوں نے اقتدار کو اپنے ہاتھوں میں مرکوز کر لیا اور لیڈر مرکوز سیاسی بیانیے تشکیل دیے۔ وہ صرف اپنی مکمل کنٹرول والی مواصلاتی حکمت عملیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کیرلم میں اس کا نتیجہ ایک ایسی سیاسی ثقافت کی صورت میں سامنے آیا ہے، جہاں مباحثے انتخابی پالیسیوں کے بجائے وزیر اعلیٰ کی شبیہ کے گرد زیادہ گھومتے ہیں۔‘‘
اپوزیشن کے لیڈر وی ڈی ستیسن، جو اس انتخاب میں کانگریس کا چہرہ بھی ہیں، کہتے ہیں کہ ’’حکومت نے اپنی عوامی شبیہ چمکانے کے لیے سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر دیے۔ جدھر بھی دیکھیں، ان کا ہی چہرہ نظر آئے گا۔ سرکاری بسوں پر، سڑک کنارے ہورڈنگز پر، ٹی وی پر، اخباروں کے پہلے صفحے پر… ہر جگہ لگے ان کے کٹ آؤٹس دیکھ کر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ کیا ہم واقعی کیرلم میں ہی رہ رہے ہیں؟ یہ مجھے بدنام ’انڈیا شائننگ‘ کی یاد دلاتا ہے۔ ایسی مہم الٹا اثر ڈالتی ہیں۔‘‘ پارٹی چھوڑ کر ملپوژا سے کانگریس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے سی پی آئی ایم کے سابق لیڈر اے سریش کہتے ہیں کہ ’’پینارائی کی قیادت میں پارٹی بلاشبہ مضبوط ہوئی ہے، لیکن تنگ نظر بھی ہو گئی ہے۔‘‘
ریاست کی سیاست میں پینارائی وجین کی اس ایک دہائی نے بلاشبہ کیرلم کو بدل کر رکھ دیا، لیکن اس کامیابی کی قیمت کے بارے میں کچھ بنیادی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ اس طرح یہ کہانی گھوم پھر کر دوبارہ پینارائی گاؤں پر آ کر ٹھہر جاتی ہے۔ پرپّورم پر، ان سادہ ٹھکانوں پر جہاں کبھی کیرلم کی کمیونسٹ تحریک ایک پرسکون ماحول میں مکالمے اور اجتماعی تخلیقی سوچ کے ذریعے شکل اختیار کر رہی تھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































