
قابل ذکر ہے کہ بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد عبوری صدر احمد الشرع نے آئی اے ای اے کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ نئی حکومت نے ایجنسی کو پھر سے ان مقامات تک رسائی دی ہے جہاں مشتبہ سرگرمیاں ہوئی تھیں۔ اب لیے گئے نمونوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر آئندہ بھی جانچ ہوگی۔ آئی اے ای اے ڈائریکٹر جنرل رافیل گریسی کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ صدر الشرع مستقبل میں امن پر مبنی مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے شام چھوٹے ماڈیولر ریکٹرس پر توجہ دے سکتا ہے، جو بڑے ریکٹرس کے مقابلے میں بہت کفایتی اور آسانی سے تیار کیے جا سکتے ہیں۔ گروسی نے یہ بھی کہا کہ آئی اے ای اے شام کو ریڈیو تھیراپی، جوہری میڈیسن اور کینسر علاج (آنکولوجی) کی خدمات کو دوبارہ کھڑا کرنے میں مدد کرے گا۔ دراصل تقریباً 14 سال طویل خانہ جنگی نے شام کے طبی نظام کو گہری چوٹ پہنچائی ہے۔






