
گزشتہ پیر کو دونوں صدور کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات نہ صرف سیاسی طور پر اہم تھی بلکہ تاریخی بھی تھی، کیونکہ یہ شام کے صدر کی آزادیِ شام (1946) کے بعد وائٹ ہاؤس آمد کا پہلا موقع تھا۔ ٹرمپ نے ملاقات کے دوران اپنے شامی ہم منصب کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک مضبوط اور دور اندیش شخصیت قرار دیا، جو ان کے بقول ’’جنگ زدہ شام کو دوبارہ کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
صدر احمد الشرع نے گزشتہ برس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر کے بھی ایک علامتی سنگ میل عبور کیا تھا، کیونکہ وہ کئی دہائیوں بعد اقوام متحدہ میں خطاب کرنے والے پہلے شامی صدر تھے۔ ان کا یہ عالمی ظہور شام میں نئی سیاسی تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا، جب سابق صدر بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو ماسکو روانہ ہوئے اور ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد البلاد کی قیادت الشرع کو منتقل ہوئی۔






